امی کا بدلہ لیا نوکر سے مکمل کہانی پڑھیے
سلام فرینڈز امید ہے آپ سب لوگ ٹھیک ہی ہوں گے . یہ
.میری ایک آپ بیتی ہے جب میں 24 سال کی تھی
میرا نام سعدیہ ہے اور کرنٹ ایج 38 سال اور میں
انجینیئرنگ کر رہی ہوں . آپکو میں اپنا ِجسم بتائے بغیر
کیسے رہ سکتی ہوں ؟ ؟ ؟ میرے ممے 47 ، گانڈ 49 کی
ہے اور بہت ہی کیوٹ بچوں واال فیس ہے میرا سو اندازہ
. .تو آپ نئے لگا ہی لیا ہوگا کے میں سیکس بمب ہوں
میں اپنے پیڑینٹس کی اکلوتی اوالد ہوں اور اس وجہ سے
انہوں نئے مجھے بہت ناز و الڈ سے پاال ہے جسکا فائدہ
میں خوب اٹھاتی ہوں . میرے ابو واپڈا میں کافی اچھی
پوسٹ پے ہیں اور امی ہاؤس وائف ہیں سو کافی کھال
خرچہ ہوں جاتا ہے ہمارا . کیونکہ ہمارے گھر میں کوئی
لڑکا نہیں تھا تو گھر کے کام کرنے میں کافی مشکل ہوتی
تھے کیوں کے ڈیڈ بھی اپنے ٹورز پے کافی دن گھر سے
باہر رہتے تھے سو میری موم کا آئیڈیا تھا کے ایک نوکر
کو فل ٹائم جاب دے کے گھر رکھ لیں . میری موم کافی
سیدھی سادھی خاتون ہیں اور زمانے کی چالکیوں سے
بالکل نا واکف ہیں سو انہوں نے ضد کی ایک نوکر کو
رکھا جائے . آخر کافی تالش کے بَ ْعد میرے ڈیڈ کے
دوست سے ریفرنس سے یاسر خان کو نوکرکی جاب دے
دی گئی . یاسر کی عمر اس ولت 33 سال ہوں گی لیکن
وہ لد کاٹھ کی وجہ سے ایج سے زیادہ لگتا تھا . خیر وہ
. ہماری گھر کے پیچھے بنے کمرے میں رہنے لگ گیا
اسٹارٹ میں تو وہ کافی اچھا ثابت ہوا اور گھر کے
سارے کام خود ہی کر لیتا تھا حتہ کے ڈیڈ کے ہوتے
ہوئے بھی وہ سب کام خود کرتا سو ڈیڈ اس سے بہت
خوش تھے اور اپنی سلیکشن پہ اتراتے رہتے اور اسکی
تعریف کرتے رہتے . میرا واسطہ اس سے کم ہی پڑتا تھا
لیکن جب بھی میں اپنی گاڑی سے کالج واپسی سے اترتی
بھاگ کے میرا سامان پکڑ لیتا اورمیری چھاتی
تو فوراً
کو غور سے دیکھتا جیسے کچا کھا جائے گا . بالی سب
تو ٹھیک تھا لیکن وہ بہت عجیب اور گندی نظروں سے
دیکھتا تھا جب بھی میری امی بغیر دوپٹے کے پھرتی یا
کہیں بیٹھی ہوتی تو وہ ہر ولت انکے ممے تاڑتا رہتا یا
کبھی کپڑے دحوتی ہوئے میری موم کے گیلے کپڑے
ِج َسم کے ساتھ چپکے ہوتے تو وہ انکی گانڈ کو اپنی
ٹھرکی آنكھوں سے نھارتا رہتا خاص طور پے جب میری
عی کی کمیض یا شلوار گانڈ میں پھنسی ہوتی تھی بیٹھنے
کی وجہ سے یا سوکھے کپڑےاتارنے کے لیے میری برا
اور پینٹیز کو سونگھتا رہتا . میری عادت تھی کے میں
لوز ٹی شرٹ میں گھر میں پھرتی تھے اور کیوں کیے
میرے ممے بہت ہی بڑے تھے تو عام طور پر شرٹ کا
گال کافی کھال ہوتا کے کوئی بھی بندہ آسانیسے اوپر کھڑا
ہو کے میری کلیویج اور تک دیکھ سکتا تھا . مجھے پتہ
تھا کے یاسر میرے ممے بھی تاڑتا رہتا ہے. جب بھی
میں صوفہ پے بیٹھ کے ٹی وی دیکھ رہی ھوتی تو فوراً
میرے َسر پے آ کے کھڑا ہوں جاتا اور پوچھتا کے باجی
کوئی چیز چاہئیے ؟ میں کائی دفعہ اسے پکڑ چکی تھے
اپنے ممے اور گانڈ تاڑتے لیکن وہ باز نہیں آیا . خیر مزہ
مجھے بھی بہت آتا کیوں کے اگر آپ خوبصورت ہوں
اور کوئی آپ کے حسن کو نھارے تو آپکو غرور پیدا ہو
ہی جاتا ہے سو میں زیادہ فکر نہیں لے رہی تھے اسکے
ممے دیکھنے کو . میں نے سوچا کے ابھی بچہ ہے اور
جوان بھی ہے تو ٹھیک ہوں جائے گا لیکن کبھی کڑوا
پانی بھی میٹھا ہوا ہے ؟ ؟ ؟
ایک رات میں ہمارے گھر کے پیچھے بنے گارڈن میں
بیٹھی اپنی دوست سے باتیں کر رہی تھے . میں ادھر
دھر چل رہی تھے بات کرتے کرتے کے ذرا آگے آ گئی
اُ
اور دیکھا کے تھوڑی دوڑ ایک آدمی میری امی کے
واش روم کی پچھلی دیوار کے ساتھ کھڑا ہوا تھا . پہلے
تو میں ڈر گئی اور شور مچانا چاہا کے کہیں چور نہ ہو
لیکن حوصلہ کر کے میں دبے پاؤں ذرا آگے گئی تو
میرے ہوش اُڑ گئے . میں آگے کا منظر دیکھ کے دہل
گئی کیوں کے وہ مرد کوئی اور نہیں بلکہ یاسر تھا اور
وہ واش روم کی بیک سائڈ کی طرف بنی چوٹی کھڑکی
سے اندر جھانک رہا تھا اور ساتھ ہی اپنا لوڑا پینٹ سے
باہر نکال کے مٹھ مار رہا تھا . باتْھ روم کی ہلکی روشی
منہ پر پڑنے کی وجہ سے اسکی شکل صاف نظر آ رہی
تھے . میرے ذہن میں جھماکا ہوا کے میری موم اس ولت
نہا رہی تھی اپنے واش روم میں کیوں کے تھوڑی دیر
پہلے انہوں نے مجھ سے ٹاول مانگا تھا. مطلب یاسر
میری عی کا ننگا جسم جو کے انکی گانڈ پھدی اور
ممموں پے مشتمل تھا وہ دیکھ رہا تھا اپنی گندی نظروں
سے. میں اس ذلیل کی حرکت دیکھ کے حیران ہوں گئی
لیکن میرے ذہن میں آئیڈیا آیا کے کیوں نا اسکی ویڈیو
بناوں ؟ سو میں نے ایک طرف چھپ کے اپنا موبائل
نکاال اور اسکی ویڈیو ریکارڈ کر لی مٹھ مارتے ہوئے
اور آہستہ آہستہ میں اسکی طرف بڑھتی گئی تا کے اسے
ایکسپوز کر سکوں . جب میں اسکے کافی لریب ہوں گئی
تو اسے شور سنائی دیا اور پیچھے مڑ کے دیکھا تو میں
کھڑی تھی . ایک منٹ تو اسکا سانس رک گیا لیکن میں
نے غصیلی آنكھوں سے اسکو دیکھا اور اپنا کیمرہ دکھایا
. اسکے ٹٹے شورٹ ہوگئے تھے . میں نے اسے کہا کے
گارڈن میں آ کے میری بات سنے . وہ جب گارڈن میں آیا
تو بغیر کچھ کہے سنے میں نے ویڈیو اسکی آنكھوں کے
سامنے کر دی . وہ ہکا بکا دیکھتا رہا اور میں نے کہا
. .کے صبح کا انتظار کرے
ساری رات میں سوچتی رہی کے کیا کرون اسکا ؟ ڈیڈ کو
ویڈیو دکھا دوں ؟ لیکن اس میں میری امی کی بھی بدنامی
ہوں جاتی سو میں نے ایک شیطانی منصوبہ بنایا یاسر
کے بارے میں کے کیوں نا اسکو ٹریپ کر کے اسکی
ویڈیو بھی بنای جائے ؟ ؟ یہ آئیڈیا مجھے اچھا لگا سو
میں نے صبح اسکو اشارے سے بالیا کے علیحدہ آ کے
بات سنے . وہ فل ڈرا پڑا تھا اپنی لسمت کے بارے میں
میں نے اسے کہا کے میں کسی کو بھی نہیں بتاؤں گی تم
رات کو 23 بجے میرے روم میں آنا میرے کمرے کی
بیک کھڑکی سے . میں نے سلیپنگ پلز ) جو میرے ڈیڈ
اکثر استمعال کرتے تھے ( اور کچھ رسیاں جمع کر کے
اپنی روم میں رکھ لی رات کے لیے . میں نے ریشمی
بلیک چوٹی ڈریس پہن لی جو کے اتنی چوٹی تھے کے
اگر میں جھکتی تو میری گانڈ نظر آنے لگ جاتی اور اگر
فل سیدھی بیٹھ جاتی تو میرے مموں کی کلیویج نظر آتی
رہتی . 23 بجے جب وہ اندر آیا تو مجھے دیکھ کے
حیران ہوں گیا کے یہ کیا ماجرہ ہے . میں نے نوتے نہیں
کیا اسکے ری ایکشن کو اور کہا کے اگر وہ مجھے چود
دے کسی کو بتائے بغیر تو میں اسکی ویڈیو کسی کو نہیں
دکھاؤ گی . وہ پہلے تو شک میں پڑ گیا لیکن جب میں
تھوڑی جھک کے اس سے پوچھا تو میرے ببڑے ممے
دیکھ کے اسکی آنکھوں میں چمک آ گئی . وہ کہنے لگا
. کے ٹھیک ہے لیکن آپ ویڈیو ڈلیٹ کر دو گی نہ؟؟
میں نے اسے بیٹھنے کا کہا اور اپنی ٹیبل سے دودھ
اٹھانے کے لیے چلی گئی جس میں میں نے تھوڑی سی
سلیپنگ پل مالئی تھے ہلکی ہلکی نیند کے لیے . میں
جان بوجھ کے جھک گئی تا کے میری گانڈ دیکھ لے اور
اسکا دماغ سوچنے نا لگ پڑے کچھ . میں نے اسے دودھ
پی گیا میرے مموں کو دیکھتے
پینے کو کہا جو وہ فوراً
ہوئے . میں اس کے پاس جا کے بیٹھ گی اوراس سے
دھیمے سیکسی لہجے میں باتیں کرنے لگ پری کے یہ
ہمارے درمیان سیکریٹ رہے گا . وہ راضی ہوں گیا .
میں نے اسے بیڈ پے لیٹنے کا کہا . اس نے فوراً میرے
ممے پکڑ لیے لیکن میں پیچھے ہٹ کے اسے لیٹنے کا
کہا . وہ بیڈ پے لیٹ گیا میں بولی کے آج اِ ْسپی َشل سیکس
ہوں گا سو میں نے رسیاں نکال لی اور بیڈ پے ڈال دی .
پہلے تو وہ پریشان ہو گیا رسیاں دیکھ کے لیکن میں نے
جان بوجھ کے ڈریس تھوڑی سی اوپر کی ٹانگوں سے تا
ھدی کا نظارہ لے لے وہ .
ُ
کے میری بنا پینٹی کے پ
اسکے دماغ پے سیکس سوار ہو گیا اور وہ لیٹ گیا . میں
نے اسے ننگا ہونے کو کہا تو بوال کے الئٹ اوف کر دیں
لیکن میں غصے سے بولی کے یہاں میرا حکم چلے گا .
سو وہ ننگا لیٹ گیا میں نے پہلے اسکا ایک ہاتھ باندھا
ِھر دوسرا . وہ پریشان تو ہوا لیکن میں نے سمائل
اور پ
دی تو نارمل ہو گیا یہی حال میں نے اسکی ٹانگوں کو
بھی کیا . اسکا لنڈ دیکھ کے ایک دفعہ تو میں سکتے میں
آ گئی ، 32 سال کی ایج میں اسکا لنڈ : انچ لمبا اور 3 .
6 انچ موٹا تھا . اس نے اپنا لوڑا تارتے ہوئے مجھے
دیکھ لیا اور ایک شیطانی سمائل دی . میں نے اسے دیکھ
کے ِدل میں اپنے پالن کو اصل شکل دینے کا فیصلہ کر
لیا . پہلے میں اسکے پاس گئی اور کہا کے تمہارا لنڈ تو
بہت کمال کا ہے میں نے پھلی نہیں دیکھا ایسا لنڈ . وہ
س کے گاؤں کی ساری لڑکیاں اس پہ فدا تھی
بوال کے اُ
. اسکے لنڈ کی وجہ سے . ھونا بھی چاہیے تھا
تار کے انڈرویئر اور برا پہن لی اور جان
میں نے ڈریس اُ
بوجھ کے اسکے بندھے ہاتھ والی بیڈ سائڈ کے پاس گئی
ھدی کو ٹچ کر سکے . اس نے فوراپنے
ُ
تا کے میری پ
ھدی ٹچ
ُ
ہاتھ سے میرے انڈرویئر کے اپر سے ہی میری پ
کرنا اسٹارٹ کر دی . مجھے ہلکا سا کرنٹ لگا کیوں کے
ھدی ٹچ کی
ُ
یہ فرسٹ ٹائم تھا کے ایک لڑکے نے میری پ
ہوں . پہلے تو میں نے کوئی ریسپونس نا دیا لیکن وہ
ھدی میں انگلی
ُ
مسلتا رہا کبھی انڈرویئر یوکے اپر سے پ
ڈالنے کی کوشش کرتا کبھی میرے کلیتورس کو مسلتا .
مجھے مزہ آ رہا تھا لیکن میں نے اسے کوئی ریسپونس
چپ کر کے کھڑی رہی .
ُ
نہیں دینا چاہ رہی تھے . سو
ہاتھ بندھے ہونے کی وجہ سے وہ زیادہ آسانی سے نہیں
ٹچ کر سکتا تھا سو میں اسکے ہاتھ پے بیٹھ گئی تا کے
ھدی مسل
ُ
فریلی ٹچ کر سکے . وہ اب آرام سے میری پ
ھدی نہ چاہتے ہوئے بھی پانی چوڑی
ُ
رہا تھا اور میری پ
جا رہی تھے لگاتار کیوں کے اسکے ہاتھوں میں جادو تھا
ھدی کے لپس کو انگلی کے بیچ
ُ
وہ بڑے رتھم سے کبھی پ
پھنسا کے مسلتا کبھی میرے کلٹ کو اپنی انگلیوں میں دبا
کے میری جان نکالتا . میں نے دیکھا کے اسکا لوڑا کھڑا
ھونا اسٹارٹ ہوں گیا تھا . وہ کہہ رہا تھا کے باجی آپ
بہت ٹائیٹ ہوں لگتا ہے کے کوئی بوائے فرینڈ نہیں ہے .
بڑا مست مال ہوں آپ لگتا نہیں کے کسی لڑکے نے ابھی
تک آپکو چودا نہیں ہو گا . بات سن کر اس ذلیل پر غصہ
بہت آیا لیکن پالن کے مطابك اسکو سمائل دی . جب
میری پینٹی میرے جوسز سے فل بھر چکی تھے تو میں
ھدی مسلنے
ُ
تار دی اسکے سامنے . میری پ
نے انڈرویر اُ
کی وجہ سے سوج چکی ت. وہ خوش ہوا کے باجی گرم
چودائی کا ٹائم آ گیا لیکن میرے پالن
ُ
ہو گئی ہے اور اب
ھدی والی
ُ
کچھ اور تھے . میں نے اپنے انڈرویئر کی پ
اسکے
جگہ کو باہر نکاال جو بالکل گیلی تھے اور فوراً
منہ کے اندرگھسیڑ دیا . یاسر حیران رہ گیا اور میرے
ھدی جوسز کی کرواہٹ اسکو پسند نا آئی اسکا منہ بتا
ُ
پ
رہا تھا کے وہ کتنا غصہ ہوا اس بات پے لیکن کچھ کر
نہیں سکتا تھا . میں اسکی بےبسی پر ہنسی اور بولی
کیوں کیسا لگا میرا جوس ؟ ؟ وہ منہ میں کچھ بولتا رہا
اسکے گالوں
لیکن پرواہ کس کو تھے ؟ ؟ میں نے فوراً
پے 5 کس کے تھپڑ لگاے کے اسکی ہوش ٹھکانے آ گئی
ِھر باجی کو چودنا ہے ؟ ہاہاہاہا . یہ کہہ
. میں بولی کیوں پ
کر دوبارہ اسکے گال پر تھپڑ لگایا . وہ منہ میں غراتا رہا
ِھر میں نے اسکے بالوں کو پکڑ کے زور سے کھینچا
پ
کے کچھ بال میرے ہاتھ میں آ گئے . اسکی آنكھوں سے
ِھر میں بولی کے اب دیکھ تیرے ساتھ
آنسو نکل آئے . پ
ہوتا کیا ہے . . یہ کہہ کر میں اسکی ناک پے بیٹھ گئی
ھدی بالکل اسکی ناک کے سامنے تھے .
ُ
کے میری پ
ھدی پر محسوس ہوں رہی تھے
ُ
اسکی گرم سانسیں اپنی پ
اور وہ اپنا منہ ادھر ادھر مار رہا تھا لیکن بیکار رہا اسے
ھدی کی خوشبو سونگھنی ہی پڑی . میں نے اپنی
ُ
میری پ
ھدی کو مسلنا اسٹارٹ کر دیا ایک انگلی سے اور تھوڑی
ُ
پ
دیر میں گرم ہوں گئی اور جب میں نے تھوک لگا کے
اپنی انگلی کلٹ پے مسئلی تو میرے جسم نے جھٹکا لیا یہ
عجیب منظر تھا کے کسی کے چہرے پے بیٹھ کے
ھدی
ُ
فنگرنگ کرنے کا . مجھے بہت اچھا لگا اور میری پ
ِھر سے پانی چھوڑنے لگی جو کے سیدحا یاسر کی ناک
پ
سے ہوتا ہوا اسکے ہونٹوں پے چپک گیا . مجھے دیکھ
ّی ہوئی کیوں کے یاسر کی آنكھوں میں شدید
کے دلی تسل
. غصہ تھا . لیکن ابی تو بہت بدلہ پڑا تھا
ِھر میں نے اسکے لن کو اپنے ہاتھوں میں پکڑ لیا ) بالی
پ
جو بھی ہوں لوڑا کمال کا تھا ( . میں اسکے لن کو
سیحالنی لگی . وہ اپنے ِج َسم کو ادھر اادھرادھر کرنے
لگا زور زور سے یہ دیکھ کر میں نے 4 اور تھپڑ اسکے
گالوں پر مارے اسکا منہ الل ہوں گیا تھپڑوں سے . وہ
ِھر میں نے ہلکی سی تھوک لگا کے
سکتے میں آ گیا . پ
اسکی مٹھ مارنی اسٹارٹ کر دی . جب بھی میری انگلیاں
اسکی ٹوپی تک پہنچتی تو اسکی سانسیں تیز ہوں جاتی .
میں مٹھ لگتی رہی جب مجھے پتہ چال کے وہ چھوٹنے
اسکے لوڑے پے کس
کے لریب ہے تو میں نے فوراً
کے تھپڑ مارا . تھپڑ کھا کے اسکی حوشیاری آدھی ٹوٹ
گئی . میں نے دوبارہ زور سے اسکے لوڑے پر تھپڑ
ِھر میں نے
َسر یدار ادھر مار رہا تھا . پ
مارا . یاسر اپنا
تار کے اپنے ممے آزاد کر دیے . یاسر میرے
اپنی برا اُ
ممے دیکھ رہا تھا میں جان بوجھ کے اپنے مموں پر ہاتھ
پھیرنےلگ گی. کبھی میں اپنے پورے بوبس پے ہاتھ
پھرتی کبھی اپنے نپل کو 3 انگلیوں کے بیچ پھنسا کے
ہلکا سا مسلتی . یہ کام بوہت ہی مزے کا تھا اور مجھے
جوش آ رہا تھا یہ سب کے ایک الچار مرد کے سامنے
اپنے ِج َسم سے کھیلنا . مجھے اب مزہ آنے لگ گیا تھا .
چوستی اور پھر انکو اپنی اپنی
ُ
کبھی میں اپنی انگلیاں
ھدی پر لگاتی . ایک ہاتھ سے ممے مسلتی اور ایک ہاتھ
ُ
پ
ھدی کو رگڑتی رہی. . اب میں گرم ہوں چکی
ُ
سے اپنی پ
ھدی کے اندر بھی کرنے لگ پڑی
ُ
تھے اور ایک انگلی پ
ِھر پانی چھوڑنے لگی . پانی کی
تھے. میری چوت سالی پ
ھدی سلپری ہوں گئی اور اور مزہ آنے
ُ
وجہ سے میری پ
لگا. میں ہلکی ہلکی چیخیں بھی مار رہی تھے مزے میں
گم ہو کے . یہ سب میں کھڑے ہو کر یاسر کے لن کے
اپر کر رہی تھے . یاسر کا لوڑا دوبارہ کھڑا ہوں چکا تھا
میری سیکسی حرکتیں دیکھ کے . میری پھددی کا پانی
اسکے لوڑے پے گر رہا تھا لگاتار . وہ حسرت بھری
آنكھوں سے دیکھ رہا تھا . میں نے اپنے سلپری جوسز
سے دوبارہ مٹھ مارنا اسٹارٹ کر دی اور اس دفعہ
حیرانی ہوئی کے وہ 2 منٹ میں ہی چھوٹ گے اور ساری
منی میرے ہاتھوں اور بازو اور کچھ میری آنكھوں پر
لگ گئی
یہ دیکھ کر اسکے چہرے پر سمائل آئی لیکن میرے ِج َسم
میں آگ لگ گئی . میں نے اسکی ساری منی کو اپنے
یاسر کے منہ پے پھینک دی .
ہاتھوں میں لیا لیا اور فوراً
یاسر ہکا بکا رہ گیا لیکن میں نے وہ منی جو اسکے پیٹ
پے گری تھے اپنی ہتھیلی سے صاف کی اور اپنی ہتھیلی
پر لگا کے اسی ہاتھ سے یاسر کے منہ پر تھپڑ مار دیا .
منی تھپڑ کی وجہ سے اڑ کے کچھ بیڈ پے بکھر گئی .
میں نے تھوڑا نمک لے کے یاسر کے منہ میں ڈال دیا
پینٹی ایک طرف سے ہٹا کے تاکہ اسکا منہ خشک ہوں
ِھر میں نے تیل پکڑا اور دوبارہ مٹھ مارنے کا
جائے . پ
سوچا . اسکا لوڑا بالکل سویا پڑا تھا اور فل ڈھیال تھا
لیکن میں نے پرواہ نا کی اور سلپری ہاتھوں سے مٹھ
مارنا اسٹارٹ کر دیا . تھوڑی دیر بَ ْعد اسکا لوڑا دوبارہ
کھڑا ہوں گیا لیکن فل ایریکٹ نا ہوں سکا . میں لگاتار
تیز تیز مٹھ مار رہی تھے جب بھی وہ مزے میں آتا تو
میں اسکے ٹٹے دبا دیتی جس سے ہلکی سی چییخ نکلتی
ِھر میں دوبارہ مٹھ مارتی اور ٹٹے دوبااتی رہی . میں
پ
نے یاسر کو بوال ”کیون یاسر کیسا لگ رہا ہے ؟ بڑی
تجھے سیکس کی بھوک تھے نا ؟ اب دیکھ میں بھوک
کیسے مٹاتی ہون“ . میں ایک ہاتھ سے اسکے نپل پنچ کر
رہی تھے اور ایک ہاتھ سے مٹھ لگا رہی تھے . اسکا
لورا الل ہوں چکا تھا لیکن جب بھی جھڑنے کے لریب
ہوتا تو میں اسکے ٹٹوں پے چٹکی کاٹ دیتی اور ہلکی
ِھر میں نے اسکے ٹٹے اپنی مٹھی میں لے
سی تھپڑ ماتی پ
لیا اور انھیں دبانا اسٹارٹ کر دیے جب بھی میں دوبااتی
اسکی سانس رک جاتی آنکیں باہر کو آ جاتی . میں اسکے
پیٹ پے بیٹھ گئی اور ایک ہاتھ سے پینٹی نکالی اور
دوسرا ہاتھ منہ پر رکھ لیا تا کے چیخ نا مار سکے . میں
نے پوچھا کے بڑا میری امی کو دیکھنے کا شوق تھا نہ
تجھے؟ ،چل اب امی کی بیٹی کو ہی دیکھ لے . وہ رونے
لگ پڑا اور آنكھوں سے آنسو نکل ہے تو میں نے ہاتھ
منہ سے اٹھا لیا . وہ منتیں کرنے لگ گیا کے آئندہ کبھی
نہیں کرے گا معافی دے دوں . لیکن اب بدلے کی بجاے
میرے اندر َحیوان آ چکا تھا . اب یاسر میرا تجربہ بننے
واال تھا . میں نے طنز کرتے ہوی کہا کہا کے ”ابھی تو
ِھر دوبارہ پینٹی اسکے منہ
پارٹی شروع ہوئی ہے بیتا“ . پ
ِھر دوبارہ مٹھ مارنے لگ گئے ساتھ ساتھ
میں دے دی . پ
یاسر کی طرف منہ کر کے ممے مسلنے لگی آخر وہ انکا
دیوانہ رہا تھا اور اتنا تو اسکا حك بنتا تھا ? . وہ دیکھ
کے گرم ہو گیا پھوبھر میں نے اسکے لوڑے کو اسکے
پیٹ کے ساتھ لگایا اور اسکے لوڑے پے بیٹھ گئی . میں
ھدی پے اور اسکے لوڑے پے
ُ
نے تھوک لگائی اپنی پ
آگے پیچھے ہونے لگی . مجھے بھی بہت مزہ آ رہا تھا
کیوں کے ہر بار اسکی ٹوپی میری پھددی ک اندر والے
ھدی نے
ُ
ح ّصے کو ٹچ کرتی تو کرنٹ دوڑتا تھا . میری پ
بھی پانی چھوڑنا اسٹارٹ کر دیا اور سلپری ہونے کی
وجہ سے یاسر نے اپنے پیٹ پے ہی چھڑوا دیا . اسکے
لن نئے پہلی پچکاری ماری جو یاسر کے سینے پے لگی
ھدی کے ساتھ چپک گئی . دوسری اور
ُ
اور کچھ میری پ
تیسری پچکاری اسکے پیٹ پے گیری . یاسر شرم سے
ِھر میں اٹھی اور اپنا موبائل نکال کے لے آ
مر رہا تھا . پ
آئی . اسکی ویڈیو میں میں نے پہلے یاسر کا منہ دکھایا
اور اسکے منہ میں پھنسی پینٹی پھر زوم آؤٹ کر کے
جگا دکھائی کے کیسے یاسر پھنسا ہوا تھا اور اسکی منی
اسکے پیٹ پے پڑی تھے باشامول ننگے لوڑے کے . .
یاسر کیمرہ سے منہ چھپاتا راہ الیکن کوئی فائدہ نہیں تھا
.
ِھر میں نے ویڈیو پاز کر دی اور اپنے دراز سے ایک
پ
ربڑ کا دستانہ نکاال ) جو ہیر کلر کے ولت استمال ہوتا
ہے ( . میں نے اسے پہن کے مڈل اور انڈیکس فنگر کو
آئل میں ڈبویا اور اچھی طرح تیل لگانی کے بَ ْعد کچھ آئل
یاسر کی گانڈ پے لگانا سٹارٹ کر دیا. یاسر نے ہلنے اور
چیخ مارنے کی کوشش کی لیکن میں نے اتنی زور سے
اسکے ٹٹوں کو دبایا کے اسکی سانس ہی روک گی. پھر
میں نے اسکے گانڈ والی موری کو ٹچ کرنے لگی اور
بولی کے اتنی ٹائیٹ گانڈ ، پتہ نہیں لڑکوں نئے کیسے
چھوڑی ہوں گی . کیوں کےیاسر کے ہاتھ اور ٹانگیں 5
میں x سائیڈسے باندہے تھے سو یاسر کی ِج َسم پوزیشن
تھا سو میں نے لمبی انگلی اسکی گانڈ میں گھوسانی کی
کوشش کی . گانڈ ٹائیٹ تھی اور کچھ یاسر نئے گھوٹ لی
تھے سو انگلی اندر جا نہیں سکی . میں نے الٹے ہاتھ
سے ٹٹے پکڑ لیے اور ہلکا سے دوبایا اور سیدھے ہاتھ
کی انگلی کو تیل سے تر کر کے زور لگا کے اسکی گانڈ
میں ڈال دی . یاسر کا دھیان ٹٹوں کی طرف تھا سو گانڈ
میں انگلی چلی گئی . یاسر کی آنکھوں سے آنسو نکل
آئے لیکن مجھ میں رحم نہیں تھا ، میں نے انگلی آگے
وچھ پوکچ
ُ
پیچھے کرنا اسٹارٹ کر دی . اسکی گانڈ سے پ
ِھر میں نے انگلی باہر نکالی اور اپنی
کی آواز آنے لگی پ
شہادت والی انگلی کو درمیانی انگلی پے اس طرح رکھا
کے ایک انگلی بن گئی اور پریشر سے اسکی گانڈ میں
ڈال دی . بہت زور لگانا پڑا مجھے ایسا کرتے ہوئے
کیوں کے گانڈ کافی ٹائیٹ تھے . وہ درد سے بلبلہ رہا تھا
لیکن مجھ پے جنون سوار تھا میں نے گانڈ کے اندر جا
کر انگلیاں کھول دی تا کی اسکی گانڈ کھلی ھو جائے .
ِھر میں نے کیمرہ دوبارہ چال دیا اور ویڈیو بنانی لگ
پ
گئی کے یاسر کی گانڈ میں اپنی انگلیوں کی اسکی گانڈ
سے ٹٹی نکل رہی تھی تھوڑی تھوڑی . وہ میں نے انگلی
باہر نکال کے یاسر کو دکھائی اور ہنسنے لگی ) ویڈیو
َسر ادھر ادھر مرنے لگا . میں
میوٹ تھے ( . یاسر اپنا
ِھر میں نے
نے تھوڑا اور نمک اسکے منہ میں ڈال دیا . پ
انگلیاں دوبارہ گانڈ میں ڈال دی اور دوسرے ہاتھ سے مٹھ
مارنے . یاسر کی شکل منٹوں والی تھے وہ اب ریسسٹ
بھی نہیں کر رہا تھا لیکن میں نے خود اپنے کنٹرول میں
نہیں تھے . میں زور زور سے مٹھ مارنے لگی اور
انجالین اندر باہر کرنے لگی اور منہ میں میرے کیمرہ تھا
جو سارے سین ریکارڈ کر رہا تھا . تھوڑی دیر کے بَ ْعد
. یاسر 4رد ٹائم چوت گیا لیکن بہت کم منی نکلی اسکی
کچھ 4 دفا مٹھ اور کچھ سلیپنگ پل کی وجہ سے وہ غشی
میں زیادہ آ گیا . میں نے انگلیاں گانڈ سے نکال لی اور
اندر ویر بھی اسکے منہ سے نکال لی اور ایک ہاتھ سے
ٹٹے پکڑ لیے تا کے چیخ نا مار سکے . نمک کی وجہ
سے اسکا منہ خشک ہوں چکا تھا اور اسے پیاس لگ
سوکھ چکے تھے وہ بیلبیالیا کے
رہی تھے اسکے ہونٹ ُ
ایک گالس پانی دے دوں اور معافی دے دوں اور رونے
چپ ہونے کا کہا اور کہا کے اگر
ُ
لگ پڑا میں نے اسے
ھدی چاٹے تو اسکو پانی مل جائے گا وہ
ُ
وہ میری پ
رضامند تو نا تھا لیکن کوئی چارہ بھی نا تھا میں اسکے
ھدی
ُ
منہ پے بیٹھ گئی ٹانگیں فولڈ کر کے کے میری پ
ھدی چاٹنے لگا
ُ
اسکے ہونٹوں کے اپر تھے . وہ میری پ
اور اسکی زبان خشک ہونے کی وجہ سے کافی کھردری
ہو گئی تھی جو میں چاہتی تھی تا کے زیادہ مزہ مل
سکے . وہ کبھی میرے پھددی کے باہر والے ھونٹوں کو
زبان سے چوستا کبھی میری پھددی ک اوپر والے دانے
کو چوستا . میں مزے کے ساتویں آسمان پے تھی . میں
ھدی کے اندر تک
ُ
زبان میری پ
ُ
نے اسے کہا کے اپنی
ِھر وہ اپنی زبان میری پھددی ک اندر باہر کرنے
ڈالے . پ
ھدی پانی او او
ُ
لگ پڑا . میں مزے میں پاگل تھی اور پ
پانی ہوں رہی تھی . وہ تھوڑا تیز ہو گیا اور دانے پے
زبان تیزی سے پھیرنے لگا . میرا آرگزم لریب تھا .
میرے ِج َسم میں بجلیاں دوڑ رہی تھی اور رونگٹے کھرے
ہوں چکے تھے میں اپنے ھاتھوں سے سے اپنے مممے
مسل رہی تھے پاگل ہوں رہی تھے . میری سانس پھول
رہی تھی اور میرے ِج َسم میں آرگزم ڈیولپ ہوں رہا تھا.
میں اپنی پھدی اسکے منہ پے آگے پیچھے رگڑنے لگی .
اسکی زبان پے ہی سلپ ہوتی رہی کے میرا مادہ چھوٹ
گیا . میرا کافی فلوئڈ ریلیز ہوں گے اور سارا اسکے منہ
پر لگ گیا . مجھے پیشاب محسوس ہوں رہا تھا سو میں
نے فوراً کیمرہ اوپن کیا اور فوکس اپنی پھدی اور اسکے
منہ کی طرف کر لیا . وہ کیمرہ دیکھ نہیں سکتا تھا . میں
نے ایک ہاتھ سے اسکی ناک بند کی اور سانس لینے ک
لیے یاسر نے اپنا مو کھوال اور پیشاب کردی اسکے مو
پے اور کہا کے لوں پی لوں پانی . ناک بند کی وجہ سے
اسکا منہ کھال اور پیشاب اسکے منہ میں چال گیا گرم گرم
پھیراحیستا آہستہ سارا پیشاب اسکے منہ اور بالوں میں .
. پھیل گیا کچھ وہ پی گیا جسکی ویڈیو بن چکی تھی
ِھر میں اٹھی اور اسے پوری ویڈیو دکھا این ڈی اسکے
پ
سامنے ایک کاپی اپنی فرینڈ کو سینڈ کی ) جو کے میری
ہی سیکنڈ ایمیل تھی ( اور اسے دھمکایاکے اگر وہ کل
گھر سے نا بھاگا تو میں ویڈیو انٹرنیٹ پے ڈال دوں گی .
وہ راضی ہوں گیا اور میں نے کپڑے پہن کے اسے بالوں
سے دوبارہ کھینچا اور غصے سے بوال کل صبح تم
مجھے نظر نا آانا اور اور دفعہ ہوں جاؤ اب . میں نے
اسکی رسیاں کھول دی اور چوڑی پکڑ لی حفاظت کے
لیے لیکن وہ پہلے ہی ختم ہوا پڑا تھا . وہ کپڑے پہن کے
تَر گیا اور صبح جب میری آنکھ کھلی
کھڑکی سے نیچی اُ
تو امی یاسر کو آواز دی رہی تھے لیکن یاسر سن نہیں
رہا تھا اور سنتا بھی کیسے ؟ ؟ ؟ ؟ وہ تو بدنامی کے ڈر
سے جا چکا تھا . 3 دن بَ ْعد اسنے ابو کو فون کیا کے
میرا بھائی مر چکا ہے سومین کام پر نہیں آ سکوں گا .
امی کہہ رہی تھے کے بڑا اچھا لڑکا تھا سارے کام کر
لیتا تھا اور کبھی نظر اٹھا کے نہیں دیکھتا تھا لیکن میں
ِدل میں سوسچ رہی تھے کے معصوم عی جان شکر کریں
ابی آپکو پتہ نہیں اک آپکے ننگے ِج َسم کو دیکھ کے
چودنے کے خواب سوچ کے مٹھ مار رہا تھا اور آپ کہتی
شریف تھا ؟ وہ ایک والعہ مجھے ابھی تک یاد ہے اور
ویڈیو دیکھ کے کبھی کبھی خود پے حیرت ہوتی کے یہ
. ? ? کام کیسے ہوں گے لیکن جو بھی ہے ہوں گیا تھا
دوستو میری کہانی کو الئک کرو تا کے میں فیوچر میں
بھی زیادے سے زیادہ لکھ سکون. سٹوری لکھنا بوھت
مشکل کام ہے لیکن آپ کے پیار میں میں لکھتا رہوں گا.
فمط اپکا اپنا دوست........ شکریہ
Welcome to all member's
Yum Stories provide you premium quality stories we post famous stories we upload stories that you never read before and it's free of cost
Yum Stories provide you premium quality stories we post famous stories we upload stories that you never read before and it's free of cost
Ammi Ka Badla —
About Novel
Novel Ka Naam: Ammi Ka Badla
Language: Roman Urdu
Genre: Social, Romance, Emotional
Episodes: All
Format: PDF / Read Online
Category: On-Running
You can click on story name and you'll redirect to story
- Mona Chachi 110 to 117
- Tapish 1 to 20
- Bazigar 1 to 40
- mona chahci 120
And many more like only on Yum Stories
Novel Ka Naam: Ammi Ka Badla
Language: Roman Urdu
Genre: Social, Romance, Emotional
Episodes: All
Format: PDF / Read Online
Category: On-Running
You can click on story name and you'll redirect to story
- Mona Chachi 110 to 117
- Tapish 1 to 20
- Bazigar 1 to 40
- mona chahci 120
Disclaimer
Yeh novel sirf reading aur educational purpose ke liye yahan share ki gayi hai. Tamam copyrights original writer aur publisher ke hain. Agar koi copyright concern ho toh humse contact karein.
Yeh novel sirf reading aur educational purpose ke liye yahan share ki gayi hai. Tamam copyrights original writer aur publisher ke hain. Agar koi copyright concern ho toh humse contact karein.
