انتظار لاحاصل
ازقلم ام عبدالغنی
قسط نمبر 7
چھ فٹ سے نکلتا قد، بھوری آنکھیں،کسرتی جسم اور کشادہ پیشانی وہ قد آمت آئینے کے سامنے کھڑا وجاہت کا بھرپور
شاہکار لگ رہا تھا۔۔۔
آف وائٹ شیروانی کے اوپر مہرون ویلویٹ کا کام اس کی شخصیت کو مزید باوقار بنا رہا تھا۔۔۔آج اس کا نورِ جہاں سے نکاح
تھا آئینے کے سامنے کھڑا اپنا تفصیلی جائزہ لے رہا تھا۔۔۔
اسی وقت اس کے موبائل پر رنگ ٹون بجنے لگی۔۔۔
اس نے فون آن کر کے کان سے لگایا اور اپنی گھڑی اٹھا کر پہننے لگا۔۔۔
"ہاں کرم دین بولو۔۔۔۔"
"صاحب۔۔۔آپ کا کام ہو گیا ہے اور کوئی حکم۔۔۔"
گڈ۔۔۔اب اپنا منہ بند رکھنا کسی کو پتہ نہیں لگنا چاہیے۔۔۔"
"جو حکم سائیں۔۔۔۔"
اب وہ اپنی انگوٹھی پہنتا روم سے باہر نکلا۔۔۔
اپنی مما سے پیار لینے انہیں کے روم میں چل پڑا۔۔۔
کنیز بیگم زارون کو دیکھ کر بے ساختہ ماشااللہ بولی تھیں۔۔۔انہوں نے اپنے بیگ سے چند نئے نوٹ نکال کر اس کا صدقہ
الگ سے نکال کر رکھا تھا۔۔۔
"اچھا ماما میں چلتا ہوں اب۔۔۔نورِجہاں کو سیلون سے پک کرنا ہے۔۔۔"
" بیٹا مجھے بھی لے چلو میں اکیلی رہ جاؤں گی باقی سب اپنی فیملیز کے ساتھ آرہے ہیں میں ان سب درمیان میں کیا کروں
گی۔۔۔"
"جی مما چلیں آپ میرے ساتھ ہی آجائیں۔۔۔۔"
گاڑی اب سیلون کے راستے پر رواں دواں تھی۔۔۔
زارون نے گاڑی سیلون کے سامنے پارک کی اور نورِجہاں کو کال کرنے لگا مگر اس کا نمبر بند تھا۔۔۔
"ممی آپ ویٹ کیجیے میں ابھی اسے اندر سے لے کر کے آتا ہوں"
گاڑی سے اتر کر اندر کی طرف بڑھ گیا۔۔۔۔
"مس نور جہاں ریڈی ہو گئی ہوں تو انہیں بھیج دیجئے۔۔۔"
"مگر وہ تو جا چکی ہیں۔۔۔"
"جا چکی ہیں۔۔۔کیا مطلب۔۔۔کس کے ساتھ۔۔۔؟" زارون پریشانی میں ڈوبتے ہوئے بولا تھا۔۔۔
"ابھی آدھا گھنٹہ پہلے ہی نکلی ہیں۔۔۔۔ یہ تو میں نہیں جانتی کہ کون تھی۔۔۔ مگر کوئی لڑکی تھی ان کے ساتھ ہی گئی ہیں۔۔۔"
"اچھا۔۔۔اوکے خداحافظ۔۔۔"
پریشان سا اپنی پیشانی کو مسلتا ہوا باہر نکلا۔۔۔
کنیز بیگم باہر گاڑی میں ان کا انتظار کرتی رہی زارون کو اکیلے آتا دیکھ کر کھٹکی تھیں۔۔۔۔
ہوسکتا ہے ابھی کچھ دیر ہو نور جہاں کو ریڈی ہونے میں۔۔۔ خود ہی اپنے آپ سے سوال اور جواب کرتی خاموشی سے
سارا معاملہ دیکھنے لگی۔۔۔
زارون گاڑی میں آ کر بیٹھ گیا گاڑی اسٹارٹ کر دی۔۔۔
"کیا ہوا زارون نورجہاں کو نہیں لے کر جانا۔۔۔۔؟"
"مام وہ چلی گئی ہے اپنی کسی سہیلی کے ساتھ ۔۔۔"
"کیا۔۔۔؟ اور بتانا بھی ضروری نہیں سمجھا اس نے اتنی لاپرواہ ہے یہ لڑکی۔۔۔۔عجیب لڑکی ہے۔۔۔"
"چلیں ماما آپ پریشان مت ہوں اپنا موڈ ٹھیک ہے ہم ہال ہی جا رہے ہیں۔۔۔۔"
وہ اپنی گاڑی کو فراٹے سے بھگاتے ہوئے سڑک پر رواں دواں گاڑیوں کو پیچھے چھوڑے چلے جا رہا تھا۔۔۔۔
"آہستہ چلاوُ زارون بیٹا۔۔۔۔مگر زارون شدید غصے کی کیفیت میں تھا۔۔۔"
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نورِجہاں کو لینے خوبصورت لڑکی آئی تھی اس نے خوبصورت فیشنی لباس پہن رکھا تھا۔۔۔فل شادی اٹینڈ کرنے کی گیٹ اپ
میں تھی۔۔۔ نورجہاں نے اسے پہچانا نہیں تھا مگر اس نے یہی بتایا تھا کہ وہ اس کی دور پار کی کزن ہے۔۔۔اور رباب نے
ہی اسے پک کرنے کے لئے بھیجا ہے اسے ہال پہنچا دے۔۔۔
نور جہاں حویلی کے مکینوں کے علاوہ کسی اور رشتہ دار کو نہیں جانتی تھی اس نے اپنی کوئی کزن ہی سمجھی تھی جو
اس کے ساتھ چل پڑی تھی وہ یہی سمجھ رہی تھی کہ اسے گھر سے رباب نے بھیجا ہے وہ حویلی والوں سب کے نام
جانتی تھی۔۔۔
بدقسمتی سے اس کے فون کی بیٹری ڈیڈ ہو چکی تھی۔۔۔ورنہ وہ اپنی ماں کو فون کر کے پوچھ لیتی۔۔۔
مگر وہ مزید کسی تاخیر کے۔۔ اس کے ساتھ چل پڑی۔۔۔
وہ لڑکی اسے گاڑی تک بہت محبت سے لائی تھی۔۔۔اس کا لہنگا سمیٹتے ہوئے اسے گاڑی کی پچھلی سیٹ پر بٹھایا تھا اور
خود بھی اس کے ساتھ بیٹھ گئی تھی۔۔۔ساتھ ہی اپنے بیگ سے نکال کر کوئی چیز اسے سنگھائی تھی جس سے وہ فورا ہی
بے ہوشی کی کیفیت میں چلی گئی تھی۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کنیز بیگم اور زارون ہال میں داخل ہوئے تو رباب ان کی طرف دوڑی آئی تھیں۔۔۔۔۔
"نورِ جہاں کدھر ہے زارون اس کو لے کر نہیں آئے۔۔۔"
"کیا مطلب۔۔۔وہ نہیں آئی ہم تو اس کے سیلون سے ہی آ رہے ہیں۔۔۔ اور ہمیں تو معلوم ہوا کہ جاچکی ہے اپنی کسی سہیلی
کے ساتھ۔۔۔۔"
زارون پریشانی میں گرتے ہوئے کبھی کنیز بیگم اور کبھی رباب کا چہرہ دیکھ رہا تھا۔۔۔
"سہیلی۔۔۔۔؟؟؟ اس کی تو کوئی سہیلی ہی نہیں ہے یہاں۔۔۔۔۔۔۔۔ نہ ہی وہ کسی کو اتنا جانتی ہے۔۔۔۔"
کنیز بیگم ان کی بات سن کر مزید پریشان ہوئیں۔۔۔۔
"یہ کیا کہہ رہی ہو رباب مگر وہ تو یہی بتا رہی تھی کہ وہ نکل گئی ہے۔۔۔"
یوسف داد سب کو اکھٹے دیکھتے ہوئے ان کی طرف بڑھ گئے۔۔۔تاکہ زارون سے پوچھ کر نکاح شروع کیا جائے۔۔۔۔
"مگر قریب آنے پر معلوم ہوا تو ان سب کے چہروں پر پریشانی کے واضح آثار دکھائی دئیے ان کو جھٹکا اس وقت لگا
جب انکو نور جہاں کے غائب ہونے کا علم ہوا۔۔۔
وہ پریشانی کے عالم میں سر پکڑ کر بیٹھ گئے۔۔۔
زارون الگ پریشان تھا۔۔۔۔ رباب تائی ۔۔۔"ذرا سوچئے تو اس کی کوئی تو دوست ہوگی یہاں۔۔۔"
"ارے بیٹا۔۔۔اس کی تو کوئی دوست نہیں ہے وہ کبھی میرے بغیر باہر نہیں گئی اور اسے پاکستان آئے ہوئے بھی تو ابھی
کچھ ہی مہینے ہوئے ہیں کی کوئی دوست کیسے بن سکتی ہے۔۔۔۔۔"
"تم چلو میرے ساتھ اس کے سیلون۔۔۔ میں وہاں سے دوبارہ معلوم کرتی ہوں۔۔۔۔"
جی چلیے دونوں پریشانی کی کیفیت میں نکل پڑے تھے۔۔۔
رباب سارے راستے اپنی بیٹی کے لیے بے چین رہی تھی اور خیر و عافیت کی دعائیں کرتی رہی تھی مگر ان کی یہ
بےچینی کم ہونے کی بجائے مزید بڑھ گئی تھی جب انہیں وہاں سے مایوس لوٹایا گیا نورجہاں وہاں نہیں تھی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آغا جان کو شدید جھٹکا لگا تھا نور جہاں کے لاپتا ہونے کا۔۔۔۔
خاندان کے سب لوگ ہال میں موجود تھے یہ خویلی کی پہلی شادی ہونے کی وجہ سے پورا گاؤں اور سب رشتے دار جمع
تھے مگر نورجہاں کا کچھ پتہ نہیں چل رہا تھا۔۔۔۔
سب لوگ بے چین ہونے لگے تھے کانوں میں سرگوشیاں جاری تھی کوئی کہہ رہا تھا کہ نور جہاں بھاگ گئی ہے اور کوئی
یہی کہہ رہا تھا کہ نورجہان اغوا ہوئی ہے۔۔۔
آغا جان نے سارے معاملات اور آنے والی رسوائی اور خاندان کی عزت بچانے کے لیے زارون اور فلزا کا نکاح پڑھوانے
کا فیصلہ کیا۔۔۔
"اگر آج یہ نکاح نہ ہوا تو ہمارے خاندان کی ساری زندگی کی کمائی ہوئی عزت باقی نہ رہے گی۔۔۔۔"
آمنہ بیگم اور سلیم فضل داد حیرت میں مبتلا تھے کہ آغا جان نے یہ کیا فیصلہ سنایا تھا۔۔۔
آمنہ بیگم کی تو جیسے دلی مراد بر آئی تھی۔۔۔واہ فلزا واہ خدا کے فیصلے بھی کمال ہوتے ہیں وہ خوشی کے آنسو آنکھوں
میں بھرے فلزا کو ڈھونڈنے لگیں۔۔۔۔
فلزا اداس سی ایک کونے میں بیٹھی تھی آمنہ بیگم اسے لئے اندر کی طرف بھاگیں۔۔۔
" یہاں بیٹھو میری جان میری بات سنو کو غور سے۔۔۔۔"
وہ اپنی ماں کو حیرت زدہ سی دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
"نور جہاں بھاگ گئی ہے۔۔۔"آمنہ بیگم نے اس کی حیرت ہے ختم کرنا چاہی۔۔۔۔
"کیا۔۔۔۔کیا مطلب بھاگ گئی ہے۔۔؟"
وہ ایک جھٹکے سے اٹھی تھی۔۔۔
"ہاں زارون نے معلوم کروایا ہے وہ سیلون سے غائب ہے۔۔۔اب یہ نہیں پتا کہ وہ اپنے کسی عاشق کے ساتھ بھاگی ہے یا۔۔۔۔
اچھا چل چھوڑ تو تیاری کر۔۔۔ آغاجان نے تیرے اور زارون کے نکاح کا اعلان کیا ہے تاکہ اپنے خاندان کی عزت بچا
سکیں۔۔۔"
"کیا۔۔۔" وہ آغا جان کا فیصلہ سن کر شدید حیرت میں مبتلا ہوئی۔۔۔۔
"ماما۔۔۔یہ کیا کہہ رہی ہیں میرا نکاح اور وہ بھی اتنی جلدی میں۔۔۔۔"
"ارے پریشانی کی کیا بات ہے تمہاری اور میری دل کی مراد پوری ہو گئی ہے دیکھو تم نے زارون کے ساتھ کی خواہش
کی تھی نا دیکھو کیسے پوری ہو گئی ہے۔۔۔۔"
وہ خوشی اور حیرت کی ملی جلی کیفیت میں اس کو اپنے ساتھ لگاتے ہوئے بھینچنے لگیں۔۔۔۔
"چلو جلدی سے خلیہ درست کرو ابھی مولوی صاحب آ رہے ہیں نکاح پڑھوانے۔۔۔۔"انہوں نے اسکا ڈوپٹہ درست کیا۔
تبھی سلیم فضل،مولوی صاحب کے ہمراہ ان کے کمرے میں داخل ہوئے تھے۔۔۔
چند ضروری کاروائ کے بعد نکاح شروع ہوگیا۔۔۔
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔۔۔
"فلزا بنت سلیم۔۔۔کیا آپ کو ، بعوض دس لاکھ روپے حق مہر سکہ رائج الوقت۔۔۔زارون ولد عمر کے ساتھ یہ نکاح قبول
ہے۔۔؟"
فلزا خاموشی سے سر جھکائے اپنی مہروطی انگلیوں کو مسلنے لگی۔۔۔
اس نے ذارون کا ساتھ ضرور چاہا تھا مگر اس طرح اچانک۔۔۔جب کہ نورجہاں کا نکاح ہونے جارہا۔۔۔نور جہاں کا یوں غائب
ھو جانا اس نے ایسا کبھی نہیں چاہا تھا۔۔۔۔
"بولو نا فلزا۔۔۔آمنہ بیگم نے اسے ہلایا تھا۔۔۔
فلزا نے مثبت میں سر ہلایا۔۔قبول ہے۔۔۔
نکاح کے بول پھر سے دہرائے گئے۔۔۔۔
"فلزا بنت سلیم کیا آپ کو بعوض دس لاکھ روپے حق مہر سکہ رائج الوقت۔۔۔زارون ولد عمر کے ساتھ یہ نکاح قبول ہے۔۔؟"
قبول ہے۔۔۔
مبارکبادوں کا سلسلہ جاری ہوا۔۔۔آمنہ بیگم نے خوشی سے اپنے آنسو پونچھے اور فلزا کو گلے لگا لیا۔۔۔
باقیوں کی کیفیت بھی کچھ عجیب سی تھی سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ آمنہ بیگم کی بیٹی کی خوشی میں خوش ہوا جائے یا
رباب بیگم کے دکھ میں دکھی۔۔۔۔
حویلی کے سب مکینوں کے چہروں پر اس وقت پریشانی کے آثار تھے۔۔۔سوائے آمنہ بیگم اور فلزا کے۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نور جہاں اس وقت دلہن کے لباس میں انتہا کی دلکش لگ رہی تھی۔۔وہ بے ہوشی کی کیفیت میں پڑی تھی جب کسی نے
اس کے چہرے کو بھگوتے ہوئے اسے جگایا تھا۔۔۔
پانی کے چند چھینٹے اس کے منہ پر مارے گئے تھے جس کی وجہ سے اس نے ہڑ بڑا کر آنکھیں کھولی تھی اور ایک
جھٹکے سے سیدھی ہو کر بیٹھ گئی۔۔۔
انجان چہروں اور اپنی بندھی کیفیت کو دیکھتے ہوئے پریشان سی نورجہاں اپنے اردگرد کا جائزہ لینے لگی۔۔۔
مم۔۔۔میں کہاں ہوں؟؟۔۔۔۔کک۔۔۔کون ہو تم لوگ۔۔۔۔؟؟اس نے خود کو کرسی کے گھیراوُ سے آزاد کرنا چاہا۔۔۔۔
مگر جو لڑکی اس پر جھکی ہوئی تھی اسے دیکھی دیکھی لگ رہی تھی۔۔۔
ایک لمحہ لگا تھا اسے لڑکی کا چہرہ سوچنے میں۔۔۔۔
وہی لڑکی تو جو اسے سیلون سے پک کرنے آئی تھی۔ ۔۔
"کون ہو تم۔۔۔ مجھے یہاں کیوں لائی ہو۔۔۔نور جہاں چلائی تھی"
"ائے لڑکی خاموششششش۔۔۔۔۔۔
آواز نہیں۔۔۔اس نے اس کے منہ پر انگلی رکھنی چاہی۔۔۔
اور نہ ہی یہاں سے ہلنے کی کوشش کرنا سمجھیں تم۔۔۔
ورنہ بہت برا حال کرو گی تمہارا۔۔۔"
"چاہتی کیا ہو تم کیوں لائی ہو مجھے یہاں۔۔۔۔ دیکھو تم جو کچھ بھی چاہتی ہو میرے گھر والے تمہیں دیں گے مگر مجھے۔۔۔
دیکھو مجھے جانے دو میری زندگی کا سوال ہے۔۔۔"
"ہاہاہا جانتی ہوں میں۔۔۔ تمہارے گھر والوں کو بھی بہت موٹی آسامی ہے اسی لیے تو اٹھا کر لائی ہو مس برائیڈل۔۔۔۔" اس
نے اس کے عروسی لباس کو دیکھتے ہوئے طنزاً کہا تھا۔۔۔۔
" دیکھو تم میرے بابا سے بات کروا دو۔۔۔وہ تمہاری مدد کریں گے پر مجھے تو جانے دو پلیز۔۔۔"
خاموش لڑکی میں تم سے بہتر جانتی ہو کہ مجھے کیا کرنا ہے کیا نہیں۔۔۔وہ اس کی کرسی پر لات رسید کرتی ہوئی باہر
نکل گئی۔۔۔
نور جہاں بے بسی سے چلانے لگی۔۔۔اسے آگے کی زندگی بھیانک دکھائی دینے لگی۔۔۔گھر سے ایک رات بھی غائب رہنے
والے لڑکی کو کوئی قبول نہیں کرتا۔۔۔اسے وسوسوں نے آن گھیرا تھا۔۔۔اب وہ زور زور سے خلق کے بل چلانے لگی بچاؤ
مجھے کوئی ہے بچاؤووو۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔آپ کو آج کی قسط کیسی لگی اپنی رائے سے ضرور آگاہ کیجئے گا۔۔۔
