Qalandar qist 2


Novel_Qalandar_(قلندر).

Episode_2.

Writer Sania sheikh . 


یہ منظر ہے نور اللّه شیخ   کے گھر کا ہے ۔۔جہاں سعدیہ   لسی کا گلاس تھامے سنیہ کا پیچھے پیچھے گھوم رہیں تھیں 

مگر مجال ہے جو وہ انکی سنتی 

ماما مجھے بھوک نہیں ہے پلیز مجھے نہیں پینی یہ لسی وسی میرا دل خراب ہوتا ہے پلیز ۔

سنیہ گندے گندے منہ بناتی ہوئی دوبارہ اپنی کتابوں میں گھس گئی ۔۔

کوئی حال نہیں ہے اس لڑکی کا ،نہ کھانے کا ہوش ہے نہ پینے کا پڑھائی نا ہو گئی کوئی مصیبت ہی پڑ گئی ہے میری

 بچی کو نہ دن کا پتا نہ رات کا شکل دیکھو کیسے چوسے ہوئے آم جیسی ہو گئی ہے ۔

سعدیہ  ماں تھیں بیٹی کا کتابوں سے عشق جانتی تھیں مگر یہ بات ہر گز پسند نہیں تھی کہ وہ خود کو نظر انداز کرے ۔

سنیہ نے کتاب سے نظریں ہٹائیں اور بے ساختہ ہنس پڑی۔

سنیہ سعدیہ  کی دی ہوئی مثال پر خوب ہنسی ،۔

میری پیاری ماں مثال تو کوئی ڈھنگ کی دے دینی تھی آپ نے چوسا ہوا آم کیا ہوتا ہے ؟؟

سعدیہ  نے مصنوعی غصے سے آنکھیں دکھائیں۔۔

تو اور کیا کہوں شکل دیکھی ہے اپنی ۔۔

بھاگ جاؤ گی یونیورسٹی بغیر کچھ کھائے  پئے میرے سامنے گھونٹ بھرو ۔۔۔

سنیہ نے کتاب بند کر کے شرارت سے ماں کو دیکھا، پھر گلاس اٹھا کر ناک سکیڑتے ہوئے بولی۔

آپ ہمیشہ بلیک میل کیوں کرتی ہیں ماما ۔

اسکا ذائقہ گندا لگتا ہے ۔

زہر ہی سمجھ لو۔ مگر یہ زہر تمہیں زندہ رکھے گا، ورنہ پڑھائی کے شوق میں ہڈیوں کا ڈھانچہ بن جاؤ گی!"۔

سعدیہ  نے ہاتھ بڑھا کر گلاس اس کے ہونٹوں تک لے جانے کی کوشش کی۔

سنیہ نے ہنس کر ایک گھونٹ لیا اور فوراً منہ بنایا۔

"اوہ ہو… واقعی زہر جیسا ہے۔"

سعدیہ  نے اس کے سر پر ہلکا سا تھپڑ مارا اور ہنستے ہوئے کہا ۔

"چپ کر، ڈرامہ باز! اور جلدی پی لے، ورنہ دو لگا  دوں گی۔"۔

کیوں خود کو ہلکان کرتی ہو سنیہ تمہارے بابا تمھیں باور کروا چکے ہیں کہ جیسے ہی کوئی رشتہ اچھا آئے گا وہ تمہاری

 شادی جلد کر دیں گے پھر تم کیوں ان کتابیوں سے عشق کرتی ہو ۔۔

سعدیہ نے سنیہ کے سر پر پیار سے ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا ۔

ماما میں بھی انہیں بتا چکی ہوں کہ مجھے پڑھنا ہے ،میں اپنے خواب پورے کرنا چاہتی ہوں ۔۔۔

میں سوشل ریسرچر بننا چاہتی ہوں ،میں ان مسائل پر بات کرنا چاہتی ہوں جن پر کوئی بات نہیں کرتا ،اور آپ بابا کی فکر

 مت کیا کریں انہیں منانا میرے دائیں ہاتھ کا کمال ہے ۔

مجھے کتابوں سے عشق نہیں ہے ،مجھے میرے خوابوں سے عشق ہے ۔۔۔اف آپ سے باتوں کے چکر میں میں لیٹ ہوگئی ۔

ماما وین آگئی ہے مجھے جانا ہے آپ میرے لیے دعا کیجئے گا میرا ٹیسٹ بہت اچھا ہو ۔۔۔

یہ میرا آخری سال ہے اس کے بعد میں اپنے سارے خواب پورے کروں گی ۔۔

سنیہ وین کی آواز سنتی جلدی سے اپنی چادر  پہنتی سعدیہ  کو خداحافظ کرتی جلدی میں باہر نکلی ۔

سعدیہ  مسکراتی ہوئی اسے اللّه کی امان میں دیتی اسکا سارا بکھرا سامان سمیٹنے لگیں ۔۔۔

🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥

وہ جلدی جلدی وین کی طرف بھاگی ، ڈرائیور   ہارن بجا بجا کر پاگل ہورہا تھا ۔۔۔

سنیہ اپنے گھر کا گیٹ بند کرتی،اپنی چادر درست کرتی  منہ نیچے کئے اپنے ہی دھیان میں  چل رہی تھی، سامنے سے آتا

 ہوا چھ فٹ کا بندہ اسے نظر نہ آیا اور ایک زور دار تصادم اس پتھر نما انسان سے ہوا جس کے نتیجے میں اسکی ناک 

بری طرح متاثر ہوئی ،مگر دوسری جانب شانتی تھی ۔۔

آہ ۔۔میری ناک ۔۔۔اف اللّه،۔۔

محترم کیا  آپ اندھے ہیں دیکھ کر نہیں چل سکتے  ؟؟

وہ درد سے بلبلا اٹھی ۔

"میں دیکھ کر چل رہا تھا لائن تمہاری خراب تھی لڑکی"

بھاری مردانہ آواز پر  وہ چونکی ،

 اپنی ناک مسلتے سامنے کھڑے ہوئے انسان کو مزید سنانے کی نیت سے سنیہ نے  جب سر اٹھایا تو گویا سانس لینا بھول 

گئی ۔

اسکی بادامی آنکھیں حیرت سے ابلنے کو تھیں ۔

وہ کوئی اور نہیں انکا پڑوسی سلمان شاہ  تھا ، پورے محلے میں جس کی   دہشت تھی سنیہ کو ایسے لوگوں سے بہت ڈر


 لگتا تھا ،بدقسمتی سے وہ اس کی دوست کا منگیتر بھی تھا،اور ان کا پڑوسی بھی ۔ اسکے افسانے سن سن کر وہ سلمان شاہ  

کو کوئی انڈر ورلڈ کا آدمی سمجھنے لگی تھی ۔۔

وہ تو اسے پکا چور ،ڈاکو ،قاتل بنا چکی تھی ۔۔۔

اسے علیزہ سے بہت ہمدردی تھی کہ اسکی دوست کی زندگی ایک ڈان کے ساتھ گزرے گی ۔

اب اسکی جان جارہی تھی اسے اپنے سامنے دیکھ کر۔۔

Iam sorry.

مجھے نہیں پتہ تھا ,آپ آرہے ہیں ۔میری غلطی تھی میں سہی طرح نہیں چل رہی تھی ۔۔آپ ناراض نہیں ہونا میں آئندہ آپ

 سے نہیں ٹکراؤں گی ۔

ہڑبڑاہٹ میں وہ سارا الزام خود پر لے چکی تھی ۔

سلمان اپنی آنکھوں کو چھوٹا اور ہونٹوں کو  نیم واہ کئے حیرت سے اس چھوٹی سی ٹڈی کو دیکھ رہا تھا جو ایک ہی سانس

 میں کتنی  باتیں کر گئی تھی ۔

تمہارے قد کے ساتھ ساتھ کیا آنکھیں بھی چھوٹی ہیں؟

سلمان کی بات پر اس نے اپنا تھوک نگلا ۔

اب اس دیو ہیکل کے سامنے تو وہ بونی ہی لگنی تھی ۔۔

سوری آئندہ کھلی رکھوں گی۔۔

"کیا؟ "

نا سمجھی سے پوچھا گیا ۔

"آنکھیں "

وہ معصومیت سے بولی ۔

راستہ سے ہٹو ۔۔۔وہ اسے اسی کے گھر کے سامنے سے ہٹا رہا تھا ۔۔۔

کیوں ؟؟؟میرا مطلب ہے یہ تو شیخ ہاؤس ہے آپ کا گھر شاہ ہاؤس  تو برابر والا ہے آپ ہمارے گیٹ پر کھڑے ہیں  ۔۔۔سنیہ

 کو لگا،شاید وہ نشے میں ہے اور   غلطی سے ھمارے گھر گھس آیا ہے ۔۔

"بکو مت ہٹو "

مجھے اسی گھر جانا ہے ۔

سنیہ اسے غصے میں آتا دیکھ بات کو بدل گئی ۔

 ۔،علیزہ ،آپ کی کزن،آپ کی منگیتر وہ وین میں بیٹھ گئی کیا ؟

سنیہ نے جان بوجھ کر علیزہ کا نام لیا کہ شاید اس جن کے چہرے پر کوئی مسكان ہی آجائے،اور اسے اندازہ ہو جائے کہ

  وہ غلط گھر میں گھس رہا ہے ۔ مگر  علیزہ کا نام سنتے ہی اس کے  چہرے کے نقش مزید  بگڑ  گئے تھے ۔۔

وہ ماتھے پر تیوریاں چڑھائے بولا ۔

مجھے نہیں پتا ، اور وہ میری منگیتر نہیں ہے دوبارہ بکواس کی تو زمین میں گاڑھ دوں گا ۔ .  فضول لڑکی ۔ ۔بھائی کہاں

 ہے تمہارا ؟

بلاؤ اسے مجھے  کام ہے اس سے ۔۔۔

وہ روکھے انداز میں بولا ۔۔

بھائی کا نام اس کے منہ  سے سن کر سنیہ کے تو طوطے اڑ گئے ۔۔۔

فارس سے کیا کام ہے آپ کو ؟میری بات سنیں وہ بہت شریف انسان ہے اگر اس سے کوئی غلطی ہوگئی ہے تو میں معافی

 مانگتی ہوں ۔اسکو کچھ مت کہیں ۔۔

سنیہ خوفزدہ تھی کہ فارس کو کچھ کر نہ دے ۔

لڑکی بکواس بند کرو ۔۔بلاؤ فارس کو ۔۔۔

اسے لڑکیاں زہر لگتی تھیں اور بولتی ہوئی تو اور بھی زہر لگتی تھیں ۔ اسکا ماننا تھا لڑکیاں زہر کا دوسرا روپ ہیں ۔۔۔جس

 کو مرنے کا شوق ہو عورت نامی زہر دل میں اتار لے ۔

کون سا بھائی ؟؟؟

وہ ہونٹوں کے پاؤٹ بناتی معصومیت سے پوچھ رہی تھی ۔

کیا ٹکر لگنے سے تمہارے دماغ پر بھی اثر ہوا ہے ۔۔

اسکی آواز تیز ہوئی تو سنیہ کو یاد آیا اسکا ایک عدد بھائی بھی ہے ۔

اچھا اچھا میرا بھائی ۔۔۔آپ فارس کی بات کر رہے ہیں ،

وہ تو سو رہا ہے اور

شام سے پہلے نہیں اٹھے گا ۔۔۔

 میں بتا دوں گی اسے آپ کو کیا کام ہے ویسے ؟

وہ پریشان ہوگئی تھی آخر اس گینگسٹر کو میرے بھائی سے کیا کام ؟  کہیں میرا بھائی تو نہیں کڈنپ کرے گا یہ میسنا  ؟؟

وہ یہ بات صرف سوچ ہی سکی ۔۔اس کے منہ پر بول  کر مرنا تھا ۔

جاؤ تم تمہاری وین والا چھوڑ جائے گا تمھیں ۔۔۔میں خود اٹھا لوں گا ۔۔۔

کس کو اٹھا لیں گے ؟؟؟وہ سہمی ہوئی گویا ہوئی ۔

سلمان نے اسے کٹیلی نگاہوں سے دیکھا ۔

تمہارے گھر والی علاج کروا رہے ہیں تمہارا ؟؟؟ تمہارا ڈاکٹر سہی نہیں اپنا علاج سہی کراؤ گی تو یہ وقفے وقفے سے

 تمہیں دورے پڑتے ہیں دوبارہ  کبھی نہیں پڑیں گے۔۔

اپنی اتنی کھلی انسلٹ پر سنیہ کا منہ بن گیا ۔۔۔ وہ خاموشی سے وین کی طرف بڑھی مگر نظر سلمان پر ہی تھی ۔۔۔وہ بیل

 کی طرف بڑھ رہا تھا سنیہ اچانک  واپس گھر کی طرف مڑی  اور  اسے بیل بجانے سے روکا ۔ ۔

ہی وہ مجھے یاد آیا گھر پر تو کوئی  نہیں  ۔ماما بابا شادی پر گئے ہوئے ہیں اور فارس بہت گہری نیند میں ہے آپ پھر

 کبھی آجائیے گا ۔

اس کے لہجے میں عجلت تھی، جیسے وہ ہر حال میں اُسے اندر آنے سے روکنا چاہتی ہو۔

وہ لمحے بھر کو ٹھٹکا، پھر سر جھٹک کر واپسی کے لیے قدم موڑنے ہی لگا تھا کہ یکدم گیٹ کے قبضے چرچرا اُٹھے۔

گیٹ آہستہ آہستہ کھلا اور سامنے فارس کھڑا تھا۔

نیند سے بوجھل آنکھیں، الجھے ہوئے بال اور ہاتھ میں موبائل ۔

ارے سلمان بھائی آپ آجائیں اندر،آپ کا انتظار کرتے کرتے میری آنکھ لگ گئی ۔  ۔۔اس نے مڑ کر سنیہ کو دیکھا جو ہونک

 بنی سلمان کو گھر کے اندر جاتا دیکھ رہی تھی ۔

سلمان نے ایک گہری نظر   سنیہ پر ڈالی تھی جو اسے 

الو بنانے کی کوشش میں تھی ۔۔۔مگر اس وقت تو خود ہی الو لگ رہی تھی ۔

وہ فارس سے پرتپاک انداز میں ہنستے ہوئے ملا تو سنیہ کو حیرت ہوئی ۔

"یہ بندہ ہنستا بھی ہے ؟"

اچھا تو یہ روپ بھی ہے بندے کا ۔۔۔۔

مگر یہ فارس کا بچہ  اتنا فری کیوں ہو رہا ہے اس سے ۔آج بابا کو شکایت لگاتی ہوں کیسے کیسے دوست بنا کر بیٹھا ہے ۔

اف اتنا خطرناک آدمی ہے ۔

اس کے تو گھر والے اس کو منہ نہیں لگاتے اور فارس  اسے گلے مل رہا ہے  ۔

سنیہ نے اپنے قدم وین کی طرف بڑھائے   ۔ ۔وہ بڑبڑاتی ہوئی وین میں 

بیٹھ گئی تھی ۔

🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥

روز کی طرح علیزہ نے اس کی سیٹ اپنے برابر میں   رکھی ہوئی تھی ،وہ وین والے کی جھڑکیاں سنتی ہوئی علیزہ کے

 پاس بیٹھی لمبی لمبی سانس لینے لگی ۔

سنیہ کی بچی اتنی دیر لگادی تم نے آج ؟کیا سوئی ہوئیں تھیں تم ؟

ارے نہ پوچھو یار صبح صبح جن سے ملاقات ہوگئی ۔۔

جن ؟؟؟کونسا جن سنیہ ؟؟

یار تمہارا وہ منگیتر ، کسی جن سے کم تھوڑی لگتا ہے صبح صبح سامنا ہو گیا میری تو جان ہی نکل گئی اف کتنا خوف

 ناک لگتا ہے وہ ۔۔

سنیہ کی بات پر علیزہ  کھول اٹھی ۔

ہوش میں ہو تم ؟

کیا بکواس کر رہی ہو سلمان کا کیا ذکر یہاں اور یہ  جن اور خوفناک کس کو بولا ؟۔۔

علیزہ کو  اس کی بات بری لگی تھی ۔۔ وہ خاندان کا سب سے ہینڈسم مرد مانا جاتا تھا ہاں ذرا مزاج کا کڑوا کریلا تھا مگر

 اسے کسی جن سے مشابہت دینا زیادتی تھی ۔

یار ھمارے گھر کے باہر  کھڑے تھے،میری ٹکر ہو گئی میری تو ناک ٹوٹ گئی مگر ان کو کچھ بھی نہیں ہوا ۔  ایک تو قد

 اتنا لمبا اپر سے چہرے پر  اتنی سختی مانو جیسے   دو چار قتل کر کے ابھی ابھی آئے ہوں۔۔اف بندہ ہے یا کوئی جلاد 

کیسے رہو گی تم یار۔۔۔؟

مجھے تو تمہاری فکر ہورہی ہے ۔

علیزہ کو سنیہ کی شکل دیکھ ہنسی آئی ۔۔

تم میرے منہ پر ہی میرے منگیتر کی برائیاں کر رہی ہو؟

کیسی دوست ہو ؟

ارے میری جان تمہارا خیال ہے تبھی بول رہی ہوں ایک تو محلے میں بدنام اپر سے شکل بھی ویران ،کیسے خوش رہو گی

 ان کے ساتھ ۔ تم بور ہو جاؤ گی یار ۔۔۔

وہ اسے سمجھاتے ہوئی بولی ۔

بکواس کرتے ہیں سب وہ سخت طبعیت کے ہیں مگر وہ کوئی غلط کام نہیں کرتے ،ہر کسی کے لیے درد رکھتے ہیں دل

 میں ،تم تک غلط باتیں پوہنچی ہیں یار ۔

وہ سنیہ کا دماغ ہر ممکن کوشش کرتی صاف کرنا چاہتی تھی ۔۔

"علیزہ فارس کے ساتھ تو بڑے خوشگوار موڈ میں بات کر رہے تھے "۔

"ایسے ہی ہیں وہ ،انکا سینس آف ہیومر بہت اچھا ہے جب کبھی موڈ میں ہوں تو محفل سجا دیتے ہیں مگر صرف اپنے 

پسندیده بندوں کے

ساتھ "۔

اب یہ نہ کہنا یہ کوئی خوبی ہے تمہارے منگیتر کی ،

یہ بیماری ہے یار ،یہ تو موڈ سوئینگز ہیں ۔

علیزہ اسکی بات پر ہنس پڑی ۔۔۔

بیوقوف لڑکی ان کی نیچر ہے ۔۔۔

سنیہ خاموشی سے علیزہ کو هنستا دیکھتی رہی ،۔دل میں اس کے لیے ڈھیروں دعائیں مانگ رہی تھی ۔

میری دوست ایسے ہی مسکراتی رہے ،وہ اسے بتا کر اسکا دل نہیں توڑنا چاہتی تھی سلمان اسے منگیتر نہیں سمجھتا ۔۔

میری جان  اگر اس اینگری ينگ مین کے ساتھ  تم خوش تو میں بھی خوش ۔۔مگر ہیں بہت سڑے ہوئے پلیز برا مت ماننا ۔۔

مگر میری دوست کی محبت ہے  تو میں کیسے کوئی عیب نکال سکتی ہوں ۔

سنیہ  پیار سے اس کا ہاتھ تھامے اپنی خوشی کا اظہار کر رہی تھی ۔

علیزہ کی خوشی کہیں کھو سی گئی تھی وہ یہ بات اپنی دوست کو بھی نہیں بتا سکتی تھی کہ جس انسان کی وہ صفائیاں

 دیتی پھر رہی  ہے وہ اسکی طرف دیکھنا تو دور اسے  محسوس بھی نہیں کرنا چاہتا ۔۔۔

"محبت کبھی مانگنے سے نہیں ملتی، یہ تو ملنے والی چیز ہے۔ جو دل خالی ہو، صاف ہو، اس پر محبت برستی ہے۔ عشق 

میں شرطیں نہیں ہوتیں، عشق تو بس ہو جاتا ہے۔"۔

🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥

شہر کے ایوان میں ایک ہنگامی اجلاس بلا لیا گیا تھا۔

لمبی میز کے گرد بڑے بڑے آفیسرز، ایس پی، ڈپٹی کمشنر، ایجوکیشن آفیسر اور دیگر حکام بیٹھے تھے۔

پولیس چیف نے فائل زور سے میز پر پٹخی اور بھاری آواز میں بولا۔

"جنٹل مین، سوال یہ ہے کہ آخر اتنی سختی کے باوجود بھی یہ زہر بچوں تک پہنچ کیسے رہا ہے؟"

کمرے میں سناٹا چھا گیا۔ سب کے چہرے ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔

ایک آفیسر نے آہستگی سے کہا۔

"سر، چھاپے تو روز مارے جا رہے ہیں، گرفتاریاں بھی ہو رہی ہیں… لیکن مارکیٹ میں مال ختم نہیں ہوتا۔"

"یہ کوئی عام ڈیلر کا کام نہیں۔ پیچھے کوئی بڑا نیٹ ورک ہے جو کالجز اور یونیورسٹیوں تک رسائی رکھتا ہے۔"۔

ڈپٹی کمشنر نےغصے میں پوچھا ۔

"اس نیٹ ورک کو بچا کون رہا ہے؟ اتنی چوکسی کے باوجود اگر مال اندر آرہا ہے تو… کہیں نظام کے اندر ہی کوئی ہاتھ 

تو شامل نہیں؟"

سب خاموش ہو گئے۔

"آپ لوگ آخر ایکشن کیوں نہیں لیتے؟ شہر کے بچے تباہ ہو رہے ہیں، ڈرگز اور شراب دن رات بٹ رہی ہے اور آپ سب 

بس رپورٹس پر دستخط کر کے فارغ ہو جاتے ہیں؟"

آخر کار پولیس چیف نے ہچکچاتے ہوئے دھیرے سے کہا۔

"سر… بات اتنی آسان نہیں ہے۔ جو بھی ان گروہوں پر ہاتھ ڈالنے کی کوشش کرتا ہے، اُسے اگلے ہی دن فائر کر دیا جاتا 

ہے۔ رپورٹیں اوپر تک پہنچتی ہی نہیں… سب فائلوں میں دبا دی جاتی ہیں۔"

"اصل حقیقت یہ ہے، سر… کہ سارا سسٹم کرپٹ ہے۔ بڑے بڑے ہاتھ اس کے پیچھے ہیں۔ ان کی سرپرستی کے بغیر یہ زہر 

تعلیمی اداروں میں نہیں پوھنچ سکتا ۔

سب سے بڑے آفیسر کی آواز کمرے میں گونج اٹھی۔ اُس نے ایک ایک چہرے پر نگاہ ڈالی۔

"بس کرسیوں پر بیٹھ کر دیکھتے رہیں گے آپ لوگ۔ نہ کسی کو ہمت ہے سچ بولنے کی، نہ کوئی جرات ہے قدم اٹھانے 

کی!"

میز پر پڑے کاغذات اُس نے زور سے اٹھا کر زمین پر دے مارے۔

"یہ رپورٹس، یہ فائلیں… سب بکواس ہیں۔ اصل میں آپ سب دیکھتے رہیں گے… اور شہر کے بچے برباد ہوتے رہیں 

گے!"۔

"یاد رکھیں… اگر آپ سب نے بزدلی دکھائی، تو یہ زہر ایک دن آپ کے اپنے گھروں تک پہنچے گا!"۔

"سر… یہ کام کوئی عام ڈیلر یا گینگ یا پولیس والا  نہیں کر سکتا۔"۔

"یہ صرف وہی شخص کر سکتا ہے… جو سب کچھ پرائیویٹلی کرے۔"۔۔۔بہت اندر کی انفارمیشن لے کر آئے ۔

"یعنی؟" بڑے آفیسر نے بھنویں چڑھا کر پوچھا۔

"سر…" اُس نے گہری سانس لیتے ہوئے کہا،

"ایک آدمی ہے۔"

سب کے کان کھڑے ہو گئے۔

"کون؟" سب سے بڑے آفیسر نے تیز لہجے میں پوچھا۔

"اس کا نام ہے… قلندر۔"

سر قلندر وہاں سے سوچنا شروع ہوتا ہے جہاں ہماری سوچ ختم ہوتی ہے وہ وہ نہیں دیکھتا جو سامنے بظاھر نظر آرہا جو

 وہ وہ دیکھتا ہے جو تصویر کے پیچھے چھپا ہو ۔

بہت بڑے بڑے لوگ ،اس سے مدد لے رہے ہیں ۔۔

کمرے میں ایک دم خاموشی چھا گئی۔

کچھ افسروں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا، جیسے وہ نام سن کر چونک گئے ہوں۔

"قلندر…؟ یہ کون ہے؟"

"سر، اس کی پہچان کوئی نہیں جانتا۔ نہ اس کا اصل چہرہ دیکھا گیا، نہ اس کی رہائش معلوم ہے۔ بس اتنا پتا ہے کہ جہاں 

پولیس کا ہاتھ نہیں پہنچتا… وہاں قلندر پہنچ جاتا ہے۔"۔

ٹیم ہے پوری ،سمجھیں ایک نیٹ ورک جو اپنے حساب سے کام کرتا ہے ۔

اس کی اپنی ایک ٹیم ہے مگر ان کا 

چہرہ کسی نے نہیں دیکھا۔

پہلے ایک دو لڑکے تھے مگر سنا ہے اب اسکا نیٹورک بہت بڑا ہو گیا ہے ۔۔

تو اگر ایسی بات ہے تو مجھے اس سے ملنا ہے ایسا بندہ ھمارے لیے بہت کار آمند ثابت ہو سکتا ہے ۔۔

جلد سے جلد اسے ڈھونڈو اور  

"مجھے ملواؤ اس سے…!"۔

"سر… قلندر کسی سے ملتا نہیں۔ لوگ اس تک نہیں پہنچتے… وہ خود طے کرتا ہے کس سے ملنا ہے۔"۔

اس کی ٹیم کے بندے ویب سائٹ سے سب کنٹرول کرتے ہیں ۔

"بکواس بند کرو! چاہے زمین کھودنی پڑے یا آسمان پھاڑنا پڑے، مجھے اُس سے ملاقات چاہئے۔ اگر وہ واقعی سچ تک پہنچ 

سکتا ہے تو مجھے اُس کی ضرورت ہے۔"۔

🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥

وہ بڑے ہی چاؤ سے بریانی بنا رہی تھی ،اسکا بس چلتا تو وہ بریانی کو دم لگاتے ہوئے ہری مرچ کی جگہ اپنا 

دل بھی ڈال دیتی ۔۔۔

رات ہی تو اس نے ناول کی ایپیسوڈ میں پڑھا تھا کہ كاسنی رنگ کے سوٹ میں ہیرو نے ہیروئن کو دیکھا ،دوپٹہ ہوا کے

 جھونکے سے ہیرو کے منہ پر،پھر ہیرو ہیروئن کی شہد رنگ آنکھوں میں جھانکتا ہے  اور محبوب آپ کے قدموں میں ،تو 

كاسنی رنگ کا سوٹ تو زویا کے پاس تھا نہیں اور نہ ہی اسکی شہد رنگ آنکھیں تھیں ،مگر وہ ہیروئن تھی اور اپنے ہیرو

 کے لیے بریانی بنا کر لے جا رہی تھی ۔

زویا نے بڑے سلیقے سے چاول ایک 

ڈش میں نکالے ،سر پر دوپٹہ نفاست سے اوڑھتے ڈش کو احتیاط سے اٹھاتی گیٹ کی طرف بڑھی  ۔۔

اے زویا !!!۔

کدھر جارہی ہو یہ ڈش لے کر ؟؟

اماں جو برآمدے میں ہی بیٹھی تھیں زویا کی تیاریوں  پر ان کا ماتھا ٹھنکا ۔۔

وہ اماں ساتھ والوں کے برتن دینے تھے امی نے کہا تھا جب بریانی بناؤ گی تو سعدیہ آنٹی کو دے آنا ۔

زویا تھوک نگلتے ہوئے صاف جھوٹ بول رہی تھی ۔

ہاں تو یہ تھوبڑا اتنا کیوں سجایا ہوا ہے ؟؟قربانی کی گائے لگ رہی ہے بس نکیل کی کمی ہے ،وہ تسبیح گھماتے ہوئے اس

 کا دماغ بھی گھما رہی تھیں ۔

اماں یہ گال تو چولھے کے آگے لال ہوئے ہیں اور ہونٹ تو میرے بچپن سے گلابی ہیں ۔۔۔میں نے خود تھوڑی  کیا ہے ۔۔۔

اتنی پیاری شکل کو گائے سے ملا رہی ہو اماں ۔

اماں کو نرمی سے جواب دیتی وہ انکا دھیان بھٹکا رہی تھی ۔

 میری بھی آنکھوں میں پیدائشی کیمره فٹ ہے جب تو کمرے میں منہ پر لیپا پوتی کر رہی تھی تب ہی دیکھ لیا تھا ۔یہ ڈش 

یہاں رکھ اور منہ پر دوپٹہ لپیٹ۔۔۔

ذرا شرم نہیں ہے تجھے چھوری ،انٹ جیسے قد کاٹھ کا لڑکا ہے انکا اور تو ایسے ہی منہ اٹھائے جا رہی ہے ۔۔۔

علیزہ کو دیکھا ہے چادر میں لپیٹ کر رکھتی ہے خود کو ۔۔اور یہ سعدیہ کی بیٹی کیا نام ہے بھلا اس کی چھوری کا ۔۔ایک

 تو اتنے مشکل نام رکھ لیتے ہیں مجھے  تو بھول بھی جاتے ہیں ۔

اماں سنیہ آپی کی بات کر رہی ہیں آپ ۔؟

زویا نے انہیں یاد کروایا۔۔۔

ہاں ،کیسی پیاری بچی ہے ،کبھی اسکو محلے میں مٹر گشت کرتے نہیں دیکھا ،تیرے پیروں میں کیوں پہیے لگے ہیں گھر

 سے باہر بھاگنے کی کرتی ہے ۔

اماں کے ماتھے پر بل نمودار ہوئے ۔۔

اماں کیا ہوگیا ہے وہ انٹ  ۔۔میرا مطلب ان کا بیٹا تو کام پر ہوتا ہے اس وقت گھر پر نہیں ہوتا میں بس یوں گئی اور یوں

 آئی ۔۔

تجھے کیسے پتہ وہ گھر پر نہیں ہوگا ؟

اماں کسی پولیس والے کی طرح اس سے تفتیش کر  رہی تھیں ۔

اف اماں بھائی کو کہتے سنا تھا اب بس بھی کریں میں آجاتی ہوں ابھی ۔۔زویا کو اتنے سوالوں سے الجھن ہو رہی تھی ۔

اچھا چلی جا پھر مگر جلدی آنا تیری ماں بھی آنے والی

 ہے گھر زیادہ دیر مت بیٹھنا ۔

وہ ہمیشہ کی طرح ہدایت کرتی اپنی تسبیح میں مشغول ہو گئیں ۔

زویا کے ناول کے مطابق اماں ہی اسکی زندگی میں ولن تھی جو اسکی شادی کبھی نہیں ہونے دیں گی ۔۔۔۔

زویا نے شکر کا سانس لیا اور باہر کی طرف دوڑ لگا دی ۔

گیٹ پر ہاتھ رکھے اسکا دل اس کے سینے میں بلی کی طرح اچھل رہا تھا۔ ۔وہ دعائیں مانگ رہی تھی کہ گیٹ فارس ہی

 کھولے ۔

دو تین بیل دینے کے بعد ایک بھاری مردانہ آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی ۔

کون ؟؟؟

وہ تیز دھڑکتے دل کے ساتھ بولی ۔

جی ،میں زویا آپ کے برابر والے گھر سے امی نے بریانی بھیجی ہے ۔

وہ بہت شائستہ آواز میں بولی ۔۔۔

اوہ سلمان بھائی کے گھر سے   ؟؟اس نے گیٹ جلدی سے کھول دیا ۔

آپ نے کیوں تکلیف کی سسٹر۔۔

فارس نے آگے بڑھ کر ڈش ہاتھ سے پکڑ لی ۔

زویا کو لفظ سسٹر دل پر لگا ۔۔۔

جی وہ امی نے بھجوائی تھی آنٹی کے لیے کیا میں مل لوں ؟؟

وہ اندر جانا چاہتی تھی مگر فارس کے منہ پر نو لفٹ کا بورڈ دیکھتے ہوئے ،اس نے  اپنے قدم گیٹ سے پیچھے ہی رکھے

 ۔

نہیں ،امی گھر نہیں ہیں ۔۔وہ مارکٹ تک گئیں ہیں آپ شام میں آجائیے گا ۔

وہ اسکی طرف دیکھے بغیر ہی بول رہا تھا ۔

زویا کو شدید کوفت ہورہی تھی ،وہ اس کی خاطر اتنا تیار ہو کر آئی تھی اور ایک نظر بھی جو اس انسان نے ڈالی ہو زویا

 پر ۔

اتنا شریف بھی نہیں ہونا چاہئے

 انسان کو ۔۔۔اب میں اس کی آنکھوں میں کیسے دیکھوں ؟؟کیسے میری آنکھوں کے سحر میں ڈوبے گا یہ جاہل آدمی ۔۔۔

وہ زیرے لب بڑبڑائی ۔

"جی "

کیا آپ نے کچھ کہا ۔؟

فارس کو اسکی بات سمجھ نہیں آئی ۔

"نہیں"

کچھ نہیں آنٹی کو میرا سلام دیجئے گا ۔۔میں پھر کبھی آجاؤں گی ۔۔وہ امی نے بنوائی تھی تو کہا دے آو ۔

وہ دل پر پتھر رکھے بول رہی تھی ۔

"جی ٹھیک ہے سسٹر "

اللّه حافظ وہ کہتے ہوئے ساتھ ہی گیٹ بند کر گیا ۔

سسٹر  کا بچہ  ۔!!۔

زویا پیر پٹختے ہوئے گھر واپس پلٹ گئی تھی ۔

بندہ یا تو خوبصورت نہ ہو اور اگر ہو تو کسی کا پڑوسی نہ ہو ۔۔

اب شام تک اس نے كلستے ہی رہنا ۔

تھا ۔

کچھ بھی اس کے ناول کی قسط کے مطابق نہیں ہوا تھا ۔

♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️

یار سنیہ!! کتنی بورنگ ہو تم یار 

باہر بریک ٹائم ہے اور سب کچھ نہ کچھ کھا رہے ہیں ،اور تم کتابوں کو لے کر بیٹھی ہو چل نا یار سموسے کھاتے ہیں ۔۔

علیزہ کب سے اس کی منتیں کر رہی تھی مگر وہ سن کر ہی نہیں دے رہی تھی ۔

"یار دفع کرو سموسے "

تم بھی کچھ پڑھ لو ،اس بار میں تمھیں کچھ نہیں بتاؤں گی سمجھی ۔

سنیہ اس کے ارمانوں پر پانی پھیرتی دوبارہ اپنی بكس میں کھو گئی تھی ۔۔

سنیہ اٹھ جا یار ڈھیٹ مت بن ،اللّه نے ایک ہی دوست دی ہے اور وہ بھی عجیب و غریب ۔۔

علیزہ منہ پھلا کر دوسری بینچ پر بیٹھی ۔۔۔

اے لڑکی عجیب ہو سکتی غریب نہیں ،چار وقت کی روٹی پیٹ بھر کر کھاتی ہوں اللّه بہت مهربان ہے مجھ پر ۔

وہ اسے مزید تنگ کر رہی تھی ۔

انھہ ۔۔۔ایک ٹائم کا تو تجھے کبھی کھاتے نہیں دیکھا چار ٹائم کا کھائے گی تو ذرا شکل دیکھ سوکھا کباب جیسا تیرا منہ

 ،چہرے کا رنگ باسی روٹی جیسا ،ہاتھ کسی بوسیدہ دیمک زدہ  لکڑی کی مانند ،۔۔

وہ جان بوجھ کر اس کی کمزوری کو نشانہ بنا رہی تھی ۔

ہیں ؟؟؟؟؟کیا بک رہی ہو ابھی صبح تو میں اتنی پیاری لگ رہی تھی یہ چند گھنٹوں میں کیا ہوا ۔۔موبائل دے اپنا ۔۔جلدی کر

 میری سیلفی لے ابھی مجھے دکھا ۔وہ کتاب بند کر چکی تھی ۔علیزہ اسکا دماغ خراب کرنے میں ہمیشہ کی طرح کامیاب ہو 

چکی تھی ۔

سنیہ ادھر نہیں ،ادھر تو لائٹس ہی سہی نہیں ہیں چل باہر کھینچتے ہیں سہی طرح تیری رگنت تو پتا چلے آخر گوری ہے یا

 کالی ۔

ہاں ٹھیک کہتی ہے ۔۔یہاں تو میں کالی ہی لگوں گی ۔۔۔

وہ ہمیشہ کی طرح علیزہ  باتوں میں آ کر اس سے بے وقوف بن گئی تھی ۔۔۔

اب سموسے بھی چلنے تھے اور گپیں بھی ۔

"دوستی دراصل انسان کی اصل پناہ گاہ ہے۔ ہم سب رشتوں کے شور میں، دنیا کے ہجوم میں جب تھک جاتے ہیں تو ایک 

دوست ہی وہ شجرِ سایہ دار ہے جس کے نیچے بیٹھ کر سکون کا سانس لیا جاتا ہے۔ رشتے کبھی کبھی ذمہ داریوں کی جکڑ

 میں سخت ہو جاتے ہیں مگر دوستی ایک ایسی ڈور ہے جو صرف دل کے اقرار پر قائم رہتی ہے۔ اس میں نہ کوئی دعویٰ 

ہوتا ہے نہ حساب کتاب۔"۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️

اے بہو بڑے دن لگا دئے تم نے ,ایسے کون سے من و

 سلوہ بنا کر دے رہی تھی تمہاری بھابھی جو گھر کی یاد نہیں آرہی تھی ۔۔

اماں اپنے تخت پر بیٹھیں ،فروا سے گلے شکوے کر رہیں تھیں ۔

فروا مسکرا رہی تھی جانتی تھی ساس کا پیار وہ کبھی اظہار نہیں کریں گی ،مگر فروا جانتی تھیں کہ اماں کا گزارا نہیں

 ہے ان کے بغیر ۔۔

اماں بس بھائی کو دیکھ دیکھ کر ہی ٹھنڈ محسوس ہورہی تھی ۔کیسے رشتے بنائے ہیں اللّه پاک نے 

"بہن بھائی وہ آئینہ ہوتے ہیں جن میں ہم بچپن کو بار بار دیکھتے ہیں۔"

اب بستر پر پڑا ہے تو دل جل رہا تھا اسے دیکھ کر ۔

فروا کی آنکھوں میں آنسو دیکھ اماں کا دل پسیج گیا ۔

اچھا چل  ،دل برا مت کرو وہ ٹھیک ہوجاے گا بیچ میں پھر چکر لگا لینا ۔بس تو جلدی آجایا کر اب میری بوڑھی ہڈیوں میں

 اتنی جان نہیں ہے کہ میں اس گھر کے جھگڑے میں نہیں نپٹا سکتی ۔

کیوں ؟میرے پیچھے سے کچھ ہوا تھا کیا ؟

فروا پریشان ہوئیں ۔

اماں نے وقار اور سلمان کی صبح کی ساری گفتگو گوش گزار کی ۔جس کو سنتے وہ سر پکڑ کر بیٹھ گئیں ۔

اماں یہ لڑکا کیوں اتنا جذباتی ہے کیوں پوری دنیا کا ٹھیکہ اٹھائے پھرتا ہے میں سوچ رہی ہوں علیزہ کی اور اس کی شادی

 کردوں شاید بیوی آئے تو تھوڑا سمبھل جائے ۔۔

فروا ،اس کے لیے نہایت فکر مند تھیں ۔

سوچ ہے تمہاری بہو "وہ شادی نہیں کرے گا "۔

اماں نے گویا فروا کے سر پر بم پھوڑا ۔

کیا مطلب ؟؟کیوں نہیں کرے گا شادی ؟؟

آپ سے کچھ کہا کیا اس نے ؟؟؟۔فروا فکرمندی سے پوچھنے لگیں ۔

"ہاں "

میں نے تیرے پیچھے سے اس سے بات کی ،تھی وہ علیزہ کو بہن سمجھتا ہے وہ اس سے شادی نہیں کرے گا ۔۔

اماں نے آج فروا کو سارے شاک ایک ساتھ ہی دے دئے تھے ۔

اسکا دماغ خراب ہے ،اماں وقار اسے جان سے مار دیں گے اور وہ معصوم  بچی اسکا کیا قصور ہے جس کا باپ دبئی میں

 بیٹھا اپنی دوسری بیوی اور بچوں میں مگن ہے ،سگی ماں نے طلاق کے بعد پوچھا بھی نہیں ھمارے رحم و کرم پر رہی 

بیچاری تو اب کیا یہاں بھی اسے دھوکا دے دیں ۔

نہیں ،یہ نہیں ہوگا ۔وه بچی بچپن سے اس سے منسوب ہے میں اسکے ساتھ زیادتی نہیں کروں گی ۔

فروا  جذباتی ہو گئیں ۔

"زیادہ جذباتی مت بنو بہو "

جوان اولاد ہے تمہاری اور سر پھری بھی ،علیزہ مجھے بھی بہت عزیز ہے مگر سلمان بھی ٹھیک کہتا ہے اسکی زندگی کا

 فیصلہ اس سے پوچھے بغیر کیسے کر لیا اس نے تو تم لوگوں کی پنسد سے کبھی كپڑا نہیں پہنا اور یہاں تو زندگی کا 

سوال ہے اسکی ۔۔

وہ سمجھداری سے اسے سمجھا رہیں تھیں ۔

اماں یہ ساری باتیں آپ اپنے بیٹے کو سنائیے گا ۔۔۔

یہ علیزہ کے ساتھ زیادتی ہے بہت زیادتی ہے ۔۔مجھے وہ زویا کی طرح عزیز ہے میں سلمان کا ساتھ نہیں دوں گی ۔

وہ دو ٹوک کہتی سائیڈ ہوئیں ۔

زیادتی ؟؟؟بی بی سلمان سے پوچھا تھا کسی نے ہم سب نے اپنے منہ سر ہی تو بات کی تھی ،بچپن میں کہ علیزہ اسی گھر

 میں رہے گی اب نہیں مانتا لڑکا تو کیا زبردستی شاديانے بجواو گی ،وہ جس مزاج کا ہے تم بھی جانتی ہو کر کے دیکھ لو 

زبردستی کوئی انچ نیچ ہوئی تو میں بھی کسی معاملے میں نہیں آؤں گی ۔

اماں نے بھی ہاتھ اٹھا لیے ۔

اتنا ضدی اور جذباتی کیوں ہے مجھے سمجھ نہیں آتی ۔

طوفان آجائے گا اماں ۔۔

"تو کر لو زبردستی "

بہو تمہاری مان لی تو شکرانے کے نوافل پڑھوں گی ۔۔

مگر یاد رکھنا وہ آگ اور تم اسے مزید بھڑکاو گی تو وہ سب کچھ جلا کر راکھ کر دے گا ۔پھر بیٹھ کر باجے بجانا ۔۔

🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥a
جاری ہے
Previous Post Next Post