Novel Qalandar_(قلندر).
Episode 1.
Writer Sania sheikh .
السلام و علیکم ،۔
میرا نیا ناول "قلندر "۔نئے کردار ،نئی کہانی ،۔۔۔۔
میرے ہر ناول پر آپ لوگوں کی بے پناہ محبت کی میں دل سے شکر گزار ہوں ۔۔۔اور امید رکھتی ہوں آگے بھی آپ لوگ
اپنی محبت سے سرشار کرتے رہے گے ۔
ناول فیکشن ہوتے ہیں ،خوابوں کی دنیا ،جس کا حقیقت سے کوئی واسطہ نہیں،تو ناول کو ناول سمجھ کر پڑھا کریں انہیں
حقیقت سے یا کسی انسان سے جوڑ کر کہانی کو بے رنگ مت کیا کریں ۔کہانی تو کہانی ہوتی ہے ،مگر اصل بات اس
کہانی میں چھپا سبق ہوتا ہے ۔۔جو بلکل خالص اور سچا ہوتا ہے ۔۔جو رائٹر کہنا چاہتا ہے اور بتانا چاہتا ہے ۔ ۔ہر تحریر
اپنے رائیٹر کی سوچ کی عکاسی کرتی ہے ،کیونکہ ایک رائیٹر وہی لکھتا ہے جو اس کے دماغ میں گھومتا رہتا ہے ۔۔۔۔
کہانی کو خوبصورت بناتا ہے ریڈرز کا پیار اور اعتماد ۔۔۔اور میرے ریڈرز بہت پیارے ہیں،الحمداللّه ۔۔ ہم سب مل کر ایک
بار پھر اس سفر کو یادگار بنائیں گے۔
انشاءﷲ ۔
اب آپ لوگوں کو جو سوال تنگ کر رہا ہے اسکا جواب میں پہلے ہی دے دوں ۔
میں نے ناول کا نام "قلندر "۔ہی کیوں رکھا ؟؟؟
جب میں نے قلندر لکھنے کا سوچا تو میرے ذہن میں صرف ایک کہانی نہیں بلکہ ایک خواب تھا۔ میں چاہتی تھی کہ ایک
ایسا کردار تخلیق ہو جو محض رومان یا دولت کی دوڑ میں نہ جیتے، بلکہ دوسروں کے دکھ درد کو محسوس کرے اور ان
کے حق کے لیے آواز بلند کرے۔
میں نے سوچا کہ آج کے دور کا ہیرو صرف طاقتور یا پڑھا لکھا نہیں ہونا چاہیے، بلکہ وہ دل سے نرم، ایمان سے جڑا ہوا
اور دوسروں کے لیے سایہ بننے والا ہو۔ "قلندر" دراصل ایک سوچ ہے، ایک روشنی ہے جو انسان کو خود سے اوپر اٹھا
کر انسانیت کی خدمت پر مجبور کرتی ہے۔
یہ ناول میرے لیے ایک پیغام ہے کہ اصل بہادری دوسروں کو بچانے میں ہے، اصل محبت دوسروں کے دکھ بانٹنے میں
ہے، اور اصل کامیابی وہ ہے جب آپ کسی مظلوم کے چہرے پر مسکراہٹ لے آئیں۔
قلندر لکھتے ہوئے میرا مقصد صرف ایک کردار بنانا نہیں تھا، بلکہ ایک تحریک دکھانا تھا، تاکہ پڑھنے والا یہ سوچے ۔
"کاش ہمارے معاشرے میں بھی ایسے قلندر ہوں جو اندھیروں میں چراغ جلائیں۔"۔
اب دوسرا سوال کہ قلندر کا مطلب ؟؟
"قلندر وہ ہے جو دنیا کی زنجیروں سے آزاد ہو کر رب کی محبت میں قید ہو جائے۔
وہ خود کے لیے نہیں جیتا، بلکہ دوسروں کے دکھ بانٹنے کے لیے زندہ رہتا ہے۔
اسے شہرت کی طلب نہیں، عزت کی فکر نہیں، دولت کی حرص نہیں۔
اس کی دولت اس کا سکون، اس کی طاقت اس کا یقین، اور اس کی شان اس کی عاجزی ہے۔۔
اور اس کی زندگی وہ چراغ ہے جو دوسروں کے راستے روشن کرتا ہے۔"۔
پھر کہانی تو کہانی ہے ،ہر قسم کا چسکا اور تڑکا اس میں آپ کو ملے گا تاکہ میرا کوئی بھی ریڈر بور نہ ہو ۔۔
ایکشن ،ایڈونچر ،تھرل ، ،فیملی ،
محبت ،نفرت ،دوستی ،دشمنی ،حق اور باطل کی جنگ
اور تھوڑا سا رومانس بھی ۔🤭🤭۔مگر ہر کہانی میں سبق ہو گا ۔۔۔انشاءﷲ ناول کے اینڈ میں میرا ہر ریڈر اپنے ارد گرد
اور اپنے اندر کا چھپا ہوا قلندر خود ڈھونڈے گا ۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
"اللّٰہ اکبر... اللّٰہ اکبر"
رات کا پچھلا پہر تھا۔ ستاروں کی چمک ایسے تھی جیسے سیاہ مخملی آسمان پر بکھری روشنی کے دانے ہوں۔ کہیں دور
سے اذانِ فجر کی دل کو چھو لینے والی صدا بلند ہوئی۔
یہ صدا اس کے دل کے اندر تک اتر گئی۔۔وہ جاگ ہی تو رہا تھا سویا ہی کب تھا ۔۔موبائل کو بند کرتا وہ بستر سے اٹھا
،اذان کا جواب دیا کمر سیدھی کی، اور بستر سے نیچے اتر آیا۔ کمرے کی کھڑکی کھول کے پردے پیچھے کئے ٹھنڈی ہوا
چل رہی تھی، جو اس کے ایمان کو تازگی دے رہی تھی ۔
کھڑکی کھولتے وہ وضو کے لیے واشروم کی طرف بڑھا مگر اس سے پہلے اپنے برابر والے بیڈ پر سوئے ہوئے لڑکے نما
چیز کو زور سے ٹانگ مار کر جگایا ۔۔۔
اسے ٹانگ اتنی زور سے لگی تھی کہ وہ بلبلاتا ہوا اٹھ بیٹھا ۔۔۔ہوش ٹھکانے آنے پر سر اٹھا کر سامنے والے کو دیکھا ,وہ
اس قدر سکون سے کھڑا تھا جیسے کچھ ہوا ہی نہیں ۔
"یہ کونسا طریقہ تھا جگانے کا ؟"
اور کونسی قیامت آ گئی ہے جو آدھی رات کو اپنی یہ لمبی ٹانگ دوسروں کی نیند میں اڑا کر سکون سے کھڑے ہو ۔۔۔۔؟؟
"نماز"
وہ بس مختصر سا جواب دیتا ہوا وضو کے لیے بڑھ گیا۔
بیڈ پر بیٹھے لڑکے نے اسے بنا شرٹ کے جاتے غور سے دیکھا ،اسکے پھولے ہوئے مسلز دیکھتا وہ بے اختیار بڑبڑایا ۔۔
"جن کہیں کا"
میری کمر توڑ دی ،پتا نہیں کیا کھاتا ہے ۔؟
وہ تکیہ سیدھا کرتا دوبارہ نیند کی وادی میں کھو گیا ۔۔
وہ شلوار قمیز پہنے ،اپنے بال سلیقے سے بنائے نماز کے لیے تیار تھا ۔۔
کمرے سے نکلنے سے پہلے اس نے اس سوتے ہوئے نفوس کو افسوس سے دیکھا اور مایوسی سے سر جھٹکا ۔
"بد بخت"
وہ اسے خطاب دیتا ہوا خود کمرے سے باہر نکل آیا ۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
اس نے مسجد میں مصلیٰ بچھایا،با جماعت نماز پڑھی ،اور دعا کے لیے رب کے حضور جھک گیا۔۔۔
"یا اللّه... تو نے میرے لیے جو راہ چنی ہے، اس پر مجھے قائم رکھنا۔
میری کمزوریوں کو ڈھانپ لے، میرے قدموں کو ڈگمگانے نہ دینا۔
میں چاہتا ہوں کہ کسی معصوم کا دل نہ دکھے، میری وجہ سے کسی پر ظلم نہ ہو۔
میری نظر، میرا دل، میری زبان، سب تیرے حکم کے تابع رہیں۔"۔
اس کی آنکھوں سے آنسوؤں کی لڑیاں بہنے لگیں۔ وہ آنسو جنہیں وہ دن کے اجالے میں کبھی ظاہر نہ کر پاتا۔
لوگوں کے سامنے وہ ایک سخت جان انسان تھا ،ظالم ،جابر مگر حقیقت میں تو وہ "قلندر" تھا ۔
"یا رب... میں نے تیری محبت کو اپنی زندگی کا سہارا بنا لیا ہے۔
تو نے مجھے دنیا کے جھمیلوں سے نکالا، اپنی طرف کھینچ لیا۔
یہ تیرا کرم ہے کہ تو نے مجھے اس راستے پر ڈالا جو تیرے دوستوں کا راستہ ہے۔
اب مجھے طاقت دے، ہمت دے، استقامت دے۔
میں نے جو راہ چنی ہے، اس میں آسانی ہی آسانی ہو۔
میری زندگی کو ایسا بنا کہ ہر پل انسانوں کے کام آئے۔"
"قلندر" بننا کھیل نہیں۔ یہ وہ راہ ہے جہاں آزمائشیں ہر موڑ پر منتظر کھڑی رہتی ہیں۔ یہ وہ مقام ہے جہاں انسان کو اپنی
خواہشات کو قربان کرنا پڑتا ہے، جہاں دنیا کی چمک دمک محض دھوکہ لگتی ہے۔
تو نے اپنی محبت میں مجھے قلندر بنا دیا ہے۔
یہ منصب میرا نہیں، یہ تو تیرا دیا ہوا ہے۔
لیکن میں جانتا ہوں کہ اس راستے پر چلنے کے لیے صرف دل کی تڑپ کافی نہیں۔
طاقت چاہیے... وہ طاقت جو صرف تو دے سکتا ہے۔
ایسی طاقت جو ہر لالچ کو ٹھکرا دے۔
ایسی ہمت جو ہر مشکل کو جھیل لے۔
وہ دعا مانگ کر فارغ ہوا تو اس کے ساتھی اس کے پیچھے بیٹھے اسکا انتظار کر رہے تھے ۔
وہ ان کی طرف متوجہ ہوا ۔
ہمیں اور بندے چاہیں ،خالص ،مخلص اور وفادار ۔۔۔
مگر ہر کام احتیاط سے ،۔ہم کون ہیں کیا ہیں کسی کو پتا نہیں ۔۔ہماری پہچان کیا ہے ؟؟؟
ہم صرف ظلم سے لڑتے ہیں ،۔
ہم ایک بند مٹھی کی طرح ہیں ،اور لوگ ہمیں کہتے ہیں ۔؟؟
اس نے سوالیہ انداز میں ان کی طرف دیکھا ۔۔۔
"قلندر "
وہ سب ایک آواز میں بولے ۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
گلی کے آخری سرے پر وہ کچا مکان تھا جہاں آج فاروق نے چھپ کر نکاح کا بندوبست کیا تھا۔ کمرے میں مدھم بلب کی
پیلی روشنی پھیلی ہوئی تھی۔ مولوی کاغذ کھول چکا تھا اور گواہوں کے ہاتھ بس سائن کرنے کو تیار تھے ۔۔
اچانک باہر سے موٹر سائکل کے بریک کی چیختی ہوئی آواز سنائی دی۔بھاری جوتوں کی چاپ سنائی دی…۔
فاروق کے ماتھے پر پسینہ ابھر آیا۔ کمرے میں بیٹھے لڑکی والے ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔ مولوی کا قلم ہوا میں ہی
رُک گیا۔
دروازہ ایک زوردار دھماکے کے ساتھ لات کھا کر کھلا۔
لمحہ بھر کو سب کے دل دہل گئے۔ دروازہ پوری شدت سے کھلا اور وہ اندر آیا۔۔۔
اس کی آنکھوں میں غصے کی چنگاریاں نکل رہی تھیں۔
فاروق کے ہونٹ کپکپانے لگے،۔
"س…سنو… یہ… یہ…"
مگر کچھ بولنے سے پہلے ہی اس نے نے اس پر جھپٹ کر اس کا ہاتھ دبوچ لیا۔ ایک زوردار جھٹکے کے ساتھ ہڈی
ٹوٹنے کی آواز گونجی۔ فاروق کی چیخ دیواروں سے ٹکرا رہی تھی ۔
لڑکی والے ایک دوسرے کو دیکھتے ہی سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر بھاگ نکلے۔
وہ فاروق کی آنکھوں میں دیکھتا ہوا دھاڑا ۔۔
اگر آیندہ میری بہن کو ڈرایا، یا اس پر ہاتھ اٹھایا تو … تو ابھی صرف ایک ہاتھ ٹوٹا ہے ، اگلی بار دوسرا ہاتھ بھی توڑ
دوں گا۔"۔اور ساتھ دونوں ٹانگیں بھی ۔سمجھا ۔
آئندہ اپنی بیوی کو دھوکہ دینے سے پہلے سوچ لینا وہ کس کی بہن ہے ۔۔۔اور میں دھمکی نہیں دیتا سیدھا وار کرتا ہوں اور
میرا وار جہنم رسید کرتا ہے ۔
فاروق ہانپتے ہوئے زمین پر گرا ۔
وہ پلٹا، دھول اڑاتا اپنی بائیک کو اڑا لے گیا ۔
پیچھے فاروق کی کراہیں رہ گئیں۔
©©©©©©©©©©©©©©©©©©©©
"اماں !!۔"
کہاں ہے وہ آپ کا لاڈلا سپوت ؟؟؟آپ کو اندازہ بھی ہے کس قدر بگاڑ دیا ہے آپ نے اسے ۔؟؟؟
وقار ہانپتے ہوئے گھر میں داخل ہوئے ۔
ارے آہستہ بولو وقار اتنا کیوں چلاتے ہو صبح صبح ۔
کیا قیامت آگئی ہے ۔کیا کر دیا میرے پوتے نے آج ؟
اماں تسبیح پڑھتی ہوئی اپنے تخت سے اٹھئیں ۔
کیا کیا ہے ؟؟آپ یہ پوچھیں اس نے کیا نہیں کیا ہے ۔
وہ اپنے باپ کا بھی باپ بنا بیٹھا ہے ۔میرے ہوتے ہوئے اس گھر کے سارے فیصلے وہ کرہا ہے ۔میں آپ سے پوچھتا ہوں
اماں کیوں ؟؟؟ ۔اسے میرے مقابلے پر کھڑا کر کے کیا ملے گا آپ کو ؟۔۔۔
وہ بات کم اور چلا زیادہ رہے تھے ۔
آج پھر صبح صبح شاہ ہاؤس میں عدالت لگی ہوئی تھی ۔۔۔
اب منہ سے کچھ پھوٹو گے بھی یا صرف آگ ہی برساو گے ؟؟کیا ہوا ہے کس بات کا رونا دھونا ہے ؟
اماں اب کمر پر ہاتھ رکھے وقار کے آگے کھڑی پوچھ رہی تھیں ۔
علیزہ کی آنکھ وقار صاحب کے چلانے پر کھلی تھی ،وہ كسمساتی ہوئی چادر سے منہ نکالے حالات کا جائزہ لے رہی تھی
۔
زویا آج تمہارے ابا حضور پھر صبح صبح گرج رہے ہیں ؟؟
وہ اپنے کالے لمبے بال کی پونی بنائے بستر سے اٹھ چکی تھی ۔
صرف گرج نہیں رہے برس بھی رہے ہیں ۔وہ بھی گرج چمک کے ساتھ کبھی کبھی تو بجلی بھی گرا رہے ،زویا نے اس
کی معلومات میں اضافہ کیا ۔۔
علیزہ اسکی بات پر مسکرائی ،چادر کو لپیٹ کر الماری میں رکھا ۔
تو یقینن طوفان کا رخ تمہارا بڑا بھائی سلمان شاہ ہی ہو گا ؟؟؟
ویسے تو رویان بھی کم نہیں مگر تایا ابو کی سلمان سے ذرا کم ہی بنتی ہے ۔علیزہ اپنی وارڈروب سے اپنا یونی فارم
نکال کر بیڈ پر رکھ چکی تھی ۔۔
اللّه ہی بہتر جانے صبح صبح کس کی شامت آئی ہے اس گھر میں کبھی کچھ اچھا ہوا بھی ہے ؟؟؟
زویا بھی ناک چڑھاتے ہوئے اپنے بستر کو سمیٹ چکی تھی ۔وہ اپنے موبائل کو چارجنگ پر لگا رہی تھی جب علیزہ نے
اسے پکارا ۔
زویا !!!!۔
تم رات بھر پھر موبائل یوز کرتی رہی ہو ،تم اپنے ساتھ اچھا نہیں کر رہی ہو ،تمھیں پڑھنا ہے تو اچھے رائیٹرز کو پڑھو
،یہ بے باک تحریریں تمہارا ذہنی سکون برباد کر دیں گے ۔۔
وہ بلکل بڑی بہن کی طرح سمجھا رہی تھی ۔
ارے نہیں یار اچھی رائیٹر ہے تم ٹائم نکال کر پڑھنا ،سچی کیا لکھتی ہے رونا آجاتا ہے اس کی تحریروں پر ۔
"اچھا !!۔"
ویسے رونا بنتا بھی ہے جتنی تذلیل عورتوں کی کرتی ہے میرا نہیں خیال رئیل لائف میں کوئی عورت برداشت کرتی ہو گی
۔۔عورتوں کو پیر کی جوتی اور مردوں کو ان کا پیر بنا دیا ہے اب وہ جو چاہے سلوک کرے ۔اس قدر تذلیل ایک عورت کی
ایک عورت کیسے کر سکتی ہے ؟؟؟
علیزہ کو اس کی کم عقلی پر افسوس ہوا ۔
تو پیار بھی تو کتنا جنونی کرتا ہے ہیرو یار ۔۔
زویا کو کہاں گوارا تھا اس کی رائیٹر کو کچھ کہا جائے
"ہاں جی "
پیار ،وہ پیار جو ہیرو کو صرف بیڈ پر یاد آتا ہے ،کبھی پلنگ توڑ کر تو کبھی کرسی ،کبھی صوفہ کی شامت ،تو کبھی
واشروم کا ستیاناس ۔۔۔۔یہ پیار ہے ؟؟؟عورت نہ کرے تو تھپڑوں سے منہ لال کردو اور پھر اسے احساس دلاؤ وہ اسکی
زندگی ہے ۔۔۔یہ عورت کی توہین ہے زویا ،کمسن بچیوں کا دماغ خراب ایسے ہی ہوتا ہے ۔
ہاتھ اٹھانے والا مرد میرے نزدیک نامرد ہے ۔
زویا اسکی باتوں پر خاموش ہی رہی ۔اس کے پاس کوئی جواب نہیں تھا ۔
اسکا اترا ہوا چہرہ دیکھ علیزہ نے بھی بات کو ختم کیا۔
آج ناشتہ بنانے کی باری تمہاری ہے شرافت سے کچن میں چلو آج کوئی ڈرامہ کیا تو یاد رکھنا چھوڑوں گی نہیں تمھیں ۔
علیزہ اسے دھمکاتی ہوئی واشروم کی طرف جارہی تھی ۔۔
زویا نے اسے گھورتے ہوئے دیکھا ۔۔ٹھیک ہے پھر سب کو ناشتہ دس بجے ہی ملے گا کیونکہ مجھے پراٹھے بنانے نہیں
آتے ۔۔کیسی کزن ہو تم ویسے بندہ خدا ترسی ہی کر لیتا ہے چھوٹی ہوں تم سے ۔
وه معصومیت بھرے لہجے میں بولی ۔۔۔
اوہ ڈرامہ کوئین ،کتنی چیٹر ہو تم اس ٹائم تم چھوٹی بن جاتی ہو ،ورنہ تو روب ایسے ڈالتی ہو جیسے گھر کی دادی اماں تم
ہی ہو ۔۔۔اور تمہاری رائیٹر کی ہر ہیروئن دو ہاتھوں سے دس دس کام نپٹا لیتی ہے ۔۔۔
وہ اسے پھر سے چھیڑ رہی تھی ۔
زویا علیزہ کی بات پر مسکراتی ہوئی اس کے نزدیک آئی دونوں بازو اس کے گلے میں حمائل کرتی اس کے گالوں کو
زور سے کھینچ رہی تھی ۔۔
میں تمہاری اکلوتی نند بھی تو ہوں نا ۔۔۔۔کیوں بھول جاتی ہو یار ۔۔
علیزہ نے اسکی ناک کھینچی ۔۔
ہونے والی نند ہو جناب ،ابھی ہوئی نہیں ہو اور مت بھولا کرو تم سے چار سال بڑی ہوں ۔۔
زویا ابھی کچھ اور کہتی کہ نیچے سے وقار صاحب کی آواز نے دونوں کو دہلا دیا ۔۔۔
یا الہی خیر !!!۔
آج تایا ابا اتنا کیوں گرج رہے ہیں ؟؟؟
مجھے نہیں پتا چلو دیکھیں ۔
علیزہ اور زویا دونوں ہی کمرے سے باہر نکلیں ۔۔
جہاں پہلے سے ہی عدالت لگی ہوئی تھی ۔۔
©©©©©©©©©©©©©©©©©
میرا پتر !!۔
ہولے بول ۔۔کیوں اپنا بلڈ پریشر بڑھا رہا ہے صبح صبح ۔۔۔جس زبان سے اللّه کا نام لیتا ہے اسی سے اپنی اولاد کو گالیاں
بھی دیتا ہے سارے محلے کو بتا کہ گھر میں بڑے بیٹے کی کوئی عزت نہیں ہے ۔۔
وہ نخوت سے بولیں ۔
تو کیا کروں میں اماں میری اولاد میرا جینا حرام کرے گی تو میرے منہ سے پھول تو جھڑنے سے رہے ۔۔۔
وہ شدید غصے کے عالم میں اپنی ناک پھلاتے ہوئے بول رہے تھے ۔
کہاں ہے وہ ؟ کسی کو کچھ پتا ہے ؟؟ بڑے نے کل سے اپنی شکل بھی نہیں دکھائی اور وہ چھوٹا والا اسکی نیندیں نہیں
پوری ہوتیں سارا دن بستر پر پڑا سڑتا رہتا ہے ۔ایک میں ہی پاگل کا بچہ ہوں جو اپنا خون جلا رہا ہوں آپ سب کے لیے
۔۔۔وہ کھولتے ہوئے تھک ہار کر بیٹھ گئے ۔
اماں نے سکھ کا سانس لیا کہ تھوڑی دیر خاموشی تو ہوئی ۔ان کی نظر علیزہ اور زویا پر پڑی جو کھڑی تماشہ دیکھ رہی
تھیں ۔
تم دونوں کیا کھڑی تماشہ دیکھ رہی ہو ؟؟؟جاؤ وقار کے لیے پانی لاؤ اور ناشتہ تیار کرو اسے دکان پر جانا ہے
اماں نے دونوں لڑکیوں کو لتھاڑتے ہوئے اپنی تسبیح سائیڈ پر رکھی ۔
اے زویا اپنی ماں کو فون کرو دو دن سے تیرے ماموں کے سر پر بیٹھی ہے گھر اور شوہر کی کچھ خبر لے ۔۔
بیوی گھر نہ ہو تو شوہر ویسے ہی سٹھیا جاتا ہے ۔
زویا اور علیزہ اپنی ہنسی چھپاتے ہوئے وہاں سے کھسک گئیں ۔
ارے کیوں دل جلاوے ہے وقار ،کچھ بتاتا بھی نہیں میرے بچے نے ایسا کیا کیا ہے ۔۔وہ دھیرے دھیرے چلتے ہوئے وقار
کے پاس آئیں ۔
اچانک گیٹ کھلنے کی آواز پر دونوں کی نظریں سامنے آتے ہوئے سلمان پر پڑئیں ۔
آگیا آپ کا شہزادہ
پوچھ لیں اب آپ، اس سے،آج کونسا کارنامہ انجام دیا ہے ۔مجھے تو نہیں بتائے گا ۔ آخر کو آپ کے شہزادہ سلیم جو
ٹھہرے ۔۔پوچھیں کون سی انار کلی کو دیوار میں چنوا کر آرہا ہے ۔۔ وقار کا غصہ دوبارہ عود آیا جب سلمان کو گھر کے
گیٹ سے اندر آتے ہوئے دیکھا ۔۔۔
سلمان شاہ کا داخلہ ایسا تھا جیسے کوئی شہزادہ اپنے محل کی دہلیز پار کر رہا ہو۔
اس کا قد دراز اور سراپا وجیہہ تھا، جس سے رعب جھلکتا۔ بادامی آنکھوں میں غرور اور انا کی آگ بھری ہوئی تھی۔
چمکتا ہوا گندمی رنگ اس کے نین نقش کو اور نمایاں کر رہا تھا۔ سیدھی اونچی ناک، تراشیدہ جبڑا اور بھاری بھنویں اسے
سخت مزاج اور مغرور شخصیت کا تاثر دیتی تھیں۔
وہ بلیک شرٹ اور بلیو جینز پہنے تھکا تھکا لگا رہا تھا ۔
یوں لگتا تھا جیسے وہ عام انسان نہیں بلکہ اپنی ذات میں ایک مکمل داستان ہے ۔ مغرور شہزادہ جو اپنے گرد و نواح کو
محض ایک نظر سے زیر کر لے ۔
اماں نے مڑ کر اپنے پوتے کو دیکھا اور نظر اتاری ۔
خوش آمدید میرے شہزادے ،گھر کی یاد آگئی ؟؟
تمہارے دیدار کی خوشی میں طعام بانٹوں ؟؟
وقار طنز کے تیر چلاتے اپنی کرسی سے دوبارہ اٹھ گئے تھے ۔
اسلام و علیکم !۔
سلمان نے وقار کی ہر بات کو اگنور کرتے ہوئے سلام کیا۔
وعلیکم سلام میرے جگر کے ٹکڑے ۔۔۔۔اماں نے آگے بڑھتے اسے گلے سے لگایا وقار صاحب نے بس اسے گھورنے پر ہی
اكتفا کیا ۔
ابا آپ دکان نہیں گئے آج ؟؟
وہ ایسے ظاہر کر رہا تھا جیسے کچھ ہوا ہی نہیں ۔۔۔
کیا کروں میں وہاں جا کر بازار والوں سے تمہارے قصے سنوں ؟؟؟۔۔ میں نے بولا تھا مت آیا کرو کسی کے بھی مسلے میں
بات کیوں نہیں سمجھ آتی تمھیں ؟؟کیوں گئے تھے فاروق کے گھر ؟؟
وہ بری طرح دھاڑ رہے تھے ۔
علیزہ کچن سے باہر نکلی سلمان کی بنتی درگت پر اس کے دل کو کچھ ہوا ۔۔۔
وہ گھٹیا انسان دوسری شادی کر رہا تھا ۔۔۔
سلمان نے خود پر کنٹرول کرتے ہوئے بے حد نرم لہجے میں جواب دیا ۔ورنہ اونچی آواز میں بات کرنے والے کا وہ منہ
سیکنڈ میں توڑ دیتا تھا ۔ یہاں باپ تھا حد ادب لازمی تھا ۔
وہ دوسری شادی کرتا یا تیسری تمھیں کیا تکلیف تھی تمہارا باپ لگتا ہے وہ جو اسے روکنے گئے تھے ؟
ان کا لہجا اب بھی خاصا انچا تھا ۔
میرا باپ نہیں تھا مگر میرے باپ کی بہن کی بیٹی کا شوہر تو تھا ۔۔۔کیا آپ کو اپنی بھانجی کے دکھ کا کوئی احساس نہیں
؟؟
وہ اب الٹا وقار سے سوال کر رہا تھا ۔۔۔۔
اسکا باپ زندہ ہےتم کیوں ان کے معملے میں پڑے ۔۔کیوں مارا فاروق کو؟اور اس قدر بے دردی سے مارا ہے کہ اسکا
بازو ہی توڑ ڈالا ،کونسا جانور اپنے اندر پال رہے ہو ؟ کیوں فساد کی جڑ بننے پوھنچ جاتے ہو تم ۔۔اگر اب میری بھانجی
کو طلاق ہوئی تو کون زمیدار ہوگا ۔؟
فاروق جیسے لوگوں کے لیے میں فساد کی جڑ نہیں پورا درخت ہوں ،طلاق تو دور کی بات اب آنکھ اٹھا کر بھی فرحین آپی
کو دیکھا تو میں اسے وہاں پوہنچاؤں گا جہاں سے کبھی کوئی واپس نہیں آتا ۔۔وہ مکار انسان ہماری بہن کو دھوکہ دے رہا
تھا ،چھپ کر کام کرنے والے لوگ بغیرت ہوتے ہیں ۔۔میں نے بس اس کی غیرت جگائی ہے ۔۔ کچھ غلط نہیں کر رہا تھا تو
چھپ کیوں رہا تھا ۔۔سینہ ٹھوک کر شادی کرتا ،بیوی پر ہاتھ اٹھاتا ہے نامرد ۔۔میں ظلم کے آگے نہیں جھکتا محبت ہو جنگ
میں شدت کا انتہا پسند ہوں ،۔ وہ میری بہن کو آنسو دے رہا تھا میں نے وہ وجہ ہی ختم کردی ۔
سلمان شاہ کے لہجے کی کاٹ نے وقار کو گم صم کر دیا
اب تم ان کے معاملے میں نہیں آو گے سمجھے ۔وقار نے اسی انگلی اٹھا کر وارن کیا ۔
"ابا !!۔اپنی بہن کے لیے شیر ہوں تو دوسروں کی بہن کے لیے کتا نہیں ہوں ،وہ بھائی بولتی ہے مجھے تو یہ بھائی اپنی
بہن کو رونے نہیں دے گا "۔
وہ اپنی سرخ آنکھوں سے ایک نظر اٹھا کر پھر جھکا گیا ۔
وقار خاموشی سے اسے دیکھتے رہے پھر هنكار بھرتے مایوسی سے سر ہلاتے ہوئے بولے ۔
کچھ نہیں ہوسکتا تمہارا کچھ بھی نہیں ۔تم اسی طرح لوگوں کے معملات میں دخل دیتے رہو گے تو ایک دن بہت بڑا نقصان
اٹھاؤ گے ۔میری بات لکھ لو ۔۔۔
اماں کہاں برداشت کر سکتیں تھیں پوتے کے ساتھ زیادتی ۔۔
اے ہٹو بھی وقار ایک تو وہ تیری بہن کی بیٹی کا گھر بچا کے آیا ہے اور تو اسے لتھاڑ لتھاڑ کر کوس رہے ہو ۔۔
لوگوں کی مدد کرنے والے تو بڑے سخی ہوتے ہیں بیٹا ۔
اماں کو اپنے پوتے پر ہمیشہ کی طرح ناز ہوا مگر علیزہ سر مارتی ہوئی دوبارہ کچن میں گھس گئی وہ دوسروں کے
معاملے میں آنے کی سلمان کی اس عادت سے بہت نالاں تھی آئے دن کوئی نیا پنگا کوئی نیا ڈرامہ ۔۔۔مگر وہ سلمان ہی
کیا جو کسی کی سن لے ۔
اماں آپ کا یہی لاڈ پیار اور بے وجہ کی سائیڈ لینا ایک دن آپ کے پوتے کو اندھے کنوے میں دھکیل دے گا ۔۔۔
اتنی ہمدردی بھی کبھی کبھی گلے کا پهنده بن جاتی ہے ۔
اور تم توڑو ،کسی کا بازو توڑو کسی کی ٹانگ ،خود کو گینگسٹر سمجھتے ہو ،اچھے اور باذوق شوق ہیں تمہارے
برقردار ۔۔۔ کب آ تے ہو کب جاتے ہو کسی کو تمہاری خبر نہیں ،میں باپ ہوں نہیں جانتا میرا بڑا بیٹا کام کیا کرتا ہے ۔۔اکیلا
دکان چلا رہا ہوں ،میں ہی بس پاگل ہوں اس گھر میں ۔۔وہ بڑبڑاتے ہوئے اپنے کمرے میں چلے گئے تھے ۔۔۔ سلمان سرد
سانس لیتا اپنے باپ کو دیکھتا رہا ۔ یہ تو روز کی کہانی تھی ۔۔
چھوڑ تو اپنے باپ کو ،وہ کیا جانے تو کیا ہے ۔
اماں اسے خاموش کھڑا دیکھ کر بولیں ۔
امی آگئیں کیا ؟؟؟
سلمان نے کچن کی طرف جھانک کر دیکھا ۔
ارے کہاں تیری ماں پیکے جا کر تو گھر والوں کو بھول جاتی ہے دو دن کا بول کر گئی تھی مگر آج تین دن ہو گئے ۔
اماں آپ اس وقت ایک ساس لگ رہی ہیں رہنے دیں وہ کونسا روز روز جاتی ہیں ؟؟؟
اور یہ دونوں لڑکیاں ہیں تو گھر سمبھال لیتی ہیں آپ کو کوئی شکایت ہونی تو نہیں چاہئے ۔
وہ دو منٹ میں اماں کو بھی چپ کروا گیا تھا ۔۔
وہ ایسا ہی تھا ۔جوشیلا اور جذباتی ۔۔۔خاندان والے سب ہی ڈرتے تھے ۔۔۔بہت کم باتیں کرتا تھا مگر جب بولتا تھا تو مقابل کو
چپ کروا دیتا تھا ۔
زویا ناشتے میں کیا ہے ؟
سلمان کچن کے دروازے کے پاس کھڑا بلیک کلر کی سینڈو پہنے زویا سے مخاطب تھا ۔وہ شاید ابھی شاور لے کر سیدھا
کچن میں ہی آیا تھا ۔
علیزہ نے اس کی طرف دیکھتے ہی نظریں جھکا لیں ۔اسکا دل سلمان کو دیکھ کر بس رکنے ہی والا تھا ۔۔
وہ ہمیشہ سے اس کے سحر میں اسی طرح جکڑ جاتی تھی ۔
بھائی ،علیزہ آپ کے لیے آلو کے پراٹھے بنا رہی ہے ،،آملیٹ بھی ہے ۔
زویا نے انڈے پھینٹتے ہوئے ، مینو بتایا ۔
روز پراٹھے ؟۔جو سبزی ملتی ہے اس کے پراٹھے بنا لیتی ہو ۔۔ کل گوبھی تھی آج آلو آگئے ۔۔۔کل مٹر ڈال لینا ۔
بینگن بھی ٹرائی کر لینا اور پھر بیٹھ کر دونوں خود ہی ٹھوس لینا ۔
وہ مخاطب تو زویا سے تھا مگر ،دیکھ علیزہ کو رہا تھا ۔
بھائی مٹر والے پراٹھے نہیں ہوتے،نہ ہی بینگن والے ۔ ۔۔۔زویا نے آہستہ آواز میں بھائی کی انفارمیشن میں اضافہ کیا ۔۔
چپ کرو تم نہیں کھانا مجھے کوئی پراٹھا ۔۔۔آملیٹ کے ساتھ چائے دو مجھے بس ۔۔۔۔
وہ بڑبڑاتا ہوا کچن سے باہر نکل گیا ۔۔
علیزہ نے چولہا بند کر دیا ۔۔۔
وه ہمیشہ سے ایسا ہی تھا ۔وہ جتنی مرضی اسے
خوش کرنے کی کوشش کرتی وہ ہمیشہ بھڑک جاتا ۔۔
زویا نے علیزہ کا ہاتھ تھام لیا ۔
دل مت چھوٹا کرو آج دل نہیں کر رہا ہو گا بھائی کا ۔یہ ہم دونوں کھا لیں گے ۔۔۔تم جاؤ ریڈی ہو کر آو پھر ناشتہ کرتے ہیں
تب تک تمہاری وین والا بھی آجائے گا ۔
یونیورسٹی سے لیٹ ہو جاؤ گی ۔
زویا علیزہ کا دل رکھ رہی تھی ۔۔۔وہ آنسو ضبط کرتی کچن سے نکل گئی تھی ۔۔۔اب اسے بھی بھوک نہیں تھی ۔
رویان شاہ کی آنکھ کسی مانوس خوشبو کے جھونکے سے کھلی ۔۔۔سلمان شیشے کے سامنے کھڑا ہوا اپنی مخصوص
خوشبو چھڑک رہا تھا ۔
ارے واہ بھائی صبح صبح کہاں جارہے ہو ؟؟؟وہ بھی
خوشبو لگا کے ؟؟؟
وہ محبت سے اپنے بھائی کو نہار رہا تھا ۔۔۔۔
تم کس خوشی میں میرے کمرے میں براجمان ہو ؟؟؟
سلمان نے اسے دیکھے بغیر ہی اس کے سوال پر اپنا سوال داغا ۔۔۔
ہائے نہ پوچھو میرے بھائی میرے ساتھ کیا ہوا رات میں کیا سناؤں اپنی داستان ۔۔۔
وہ سر کھجاتا ہوا معصوم انداز میں بول رہا تھا ۔۔
سنانے کی ضرورت بھی نہیں ہے میں دلچسپی نہیں رکھتا ۔
اتنا بتاؤ جتنا پوچھا ہے یہاں کیوں ہو ؟
سلمان اپنے جوگرز پہنتے ہوئے اسے دیکھنے سے گریز کر رہا تھا ۔۔
بھائی روز فجر کی نماز قضا ہو جاتی ہے میں نے سوچا آپ کے پاس سوؤں گا تو فجر باجماعت پڑھ لوں گا آپ کو بھی
ثواب مل جائے گا ۔۔۔
ویسے آپ گئے کہاں تھے آج فجر کے بعد گھر نہیں آئے۔؟
رویان اداکاری کرتے ہوئے بولا ۔
سلمان نے صرف نظر اٹھا کر اسے دیکھا تھا اسکی فضول کی اداکاری میں اسے کسی قسم کی لگاوٹ نہیں تھی ۔
رویان اس کی نظروں کا مفہوم سمجھتے ہوئے بیڈ سے اٹھ کھڑا ہوا ۔
بھائی میرے روم کا فین خراب ہوگیا تھا ،گرمی لگ رہی تھی اس لیے یہاں آگیا ۔پتا نہیں اچانک چلتے چلتے وہ رک گیا ۔۔۔
رویان کی وضاحت پر سلمان نے پرس سے کچھ نوٹ نکالے ۔۔
پکڑو اور کسی کو بلوا کر آج ہی ٹھیک کرواؤ ،ابا سے پیسے مت لینا سمجھے ۔۔۔
سمجھ گیا بھائی ۔اگر پیسے بچ گئے تو ؟؟؟
رویان نوٹ الٹ پلٹ رہا تھا ۔۔۔
امی کو ماموں کے گھر سے ٹیکسی کروا کر گھر لانا بائیک پر انکی کمر میں درد نکل آتی ہے ۔۔اور ماموں کے گھر کچھ
لے جانا امی خوش ہو جایئں گی ۔۔۔
بھائی آپ کتنے اچھے ہو ۔۔
امی سے پہلے تو انکا بیٹا خوش ہو گیا ۔۔۔تھنکس بھائی ۔
وہ ان نوٹوں کو ہاتھ میں تھامے خوش سے دیکھ رہا تھا ۔
تم علیزہ کے ساتھ یونیورسٹی کیوں نہیں جارہے ہو؟وہ تو ڈیلی جاتی ہے ابا کو پتا ہے تمہارے اس روز کے قیام کا ؟ان کے
پیسے برباد کر رہے ہو ۔؟
سلمان سائیڈ ٹیبل سے اپنی گھڑی اور موبائل نکالتے ہوئے پوچھ رہا تھا ۔۔۔
بھائی یونیورسٹی میں پڑھائی نہیں ہورہی ۔۔وہ علیزہ تو پاگل ہے وہ صرف سنیہ سے گپیں مارنے جاتی ہے ۔
رویان نے جھوٹ بولنے کی پوری کوشش کی ۔
مگر مقابل اسکی کسی بات سے متاثر نہیں تھا ۔
وہ پاگل نہیں تم ضرور ہو ۔
سنیہ کا ریکارڈ پورے محلے کو پتا ہے وہ ٹڈی ٹاپر ہے ،۔اچھی بات ہے علیزہ نے اچھی دوست بنائی ہے ۔ ،اور تمہارا گلی
کا ہر نکما اور جاہل انسان دوست ہے ۔۔جس کا اثر تم پر آرہا ہے ۔دو سال سے فیل ہورہے ہو ۔
اگر اس بار فیل ہوئے تو یاد رکھنا بائیک چھین لوں گا اور موبائل بھی ۔۔پھر شیشے میں اپنی شکل دیکھ کر ٹائم پاس کرنا ۔۔۔
شرم کرو اب تک تمہارا ماسٹرز ہو جانا چاہئے تھا ۔۔مگر تم تو گریجویٹ بھی نہیں ہوئے ابھی ۔ کیا زویا کے ساتھ گریجویٹ
کرو گے ۔۔؟نالائق ۔۔۔
وہ اسے وارنگ دیتا ہوا جانے کے لیے تیار تھا ۔۔۔
ڈونٹ ووری ہینڈسم علیزہ کے ساتھ کر لوں گا زیادہ ناک نہیں کٹواؤں گا ۔۔۔
ویسے ایک بات تو بتائیں یہ آپ کو کس کی فکر ہے میری یا علیزہ کی ؟؟
نہیں مطلب بتائیں ناں میں پارٹ ٹائم جاب کا سوچ رہا ہوں آپ کی ہونے والی بیگم کی حفاظت کر لوں گا اگر آپ اپنی جیب
ڈھیلی کریں تو ۔۔۔وہ دانت نکالتا ہوا سلمان کو زہر لگ رہا تھا ۔
اس نے سر جھٹک کر اسے دیکھا ۔
نون سینس ۔۔
چیپ ہوتے جارہے ہو تم سوچ سمجھ کر بولا کرو ۔۔۔
اور آیندہ بیہودہ بکواس کی تو تمہاری شادی کروا دوں گا اس سے ۔۔
رویان کا منہ حیرت سے کھلے کا کھلا ہی رہ گیا ۔
بھائی یہ کیا بول رہے ہیں آپ ؟؟؟آپ ۔۔
آپ کیسے اپنی ہونے والی بی ۔۔۔الفاظ ابھی اس کے منہ سے پورے بھی نہ نکلے تھے کہ سلمان نے انگلی اٹھا کر وارن کیا
۔۔
ایک لفظ اور کہا تو مزید کچھ کہنے کے قابل نہیں رہو گے ۔۔۔۔
سلمان اسے کھا جانے والی نظروں سے دیکھ رہا تھا ۔
قابل تو میں ویسے بھی کسی کے نہیں ہوں ،جیب بھی خالی اور دل بھی ۔رویان نے منہ لٹکا کر اسے دکھایا ۔
دماغ کا اضافہ بھی کرو تیسری بہت اہم چیز بھی نہیں ہے تمہارے پاس سمجھے ۔
وہ ایک آئی برو اٹھاتا اسے یاد دلا رہا تھا ۔
ہا ۔۔۔بھائی ۔۔۔کر لو میری انسلٹ جب ایک دن میں بہت امیر ہوں جاؤں گا تو لڑکیوں کی لائن لگی ہو گی ،ویسے بھی لوگ
کہتے ہیں میں اپنے بڑے بھائی سے زیادہ ہینڈسم دکھتا ہوں ۔۔
اپنے بالوں کو دونوں ہاتھوں سے سیٹ کرتا وہ خود کو ہیرو سمجھ رہا تھا ۔۔۔
سلمان کوئی بھی تاثر دئے بغیر اپنی تیاری مکمل کرتا نکلنے کو تیار تھا ۔۔۔
بھائی ایک بات پوچھوں ؟؟؟
اس بار رویان کافی سنجیدہ تھا ۔
نہیں تم اپنی زبان بند رکھو ۔۔۔
سلمان کے صاف انکار پر رویان نے منہ بسورا ۔
بتاؤ نا بھائی کہاں جارہے ہو ؟
کام پر جا رہا ہوں نظر نہیں آرہا ؟؟
میں وہ دیکھنا چاہتا ہوں بھائی جو مجھے نظر نہیں آرہا ۔۔کونسا کام ؟؟
تمھیں جو نظر آرہا ہے بس اسی پر یقین رکھو ،کیونکہ جو پوشیدہ ہے وہ ظاہر ہونے کے بعد تم ہوش میں رہو گے نہیں ۔۔
میری کھوج میں مت رہا کرو رویان ۔۔مجھے سمجھنا آسان نہیں ہے میں وہ ہوں جو تم خواب میں بھی نہیں سوچ سکتے ۔۔
میں دلوں میں دھڑکنا نہیں چاہتا ،آنکھوں میں کھٹکنا چاہتا ہوں ۔نہ میں جھکتا ہوں نہ میں ركتا ہوں ،جو زخم دے کر ہنسے
اسکا حساب رکھتا ہوں ۔۔
میں وہ کہانی ہوں جس کو پڑھنے کا تجسس ہر کسی کو ہے مگر مجھے سمجھنے کی جرت نہیں ۔۔
آئندہ میرے بارے میں پوچھنے سے پہلے اپنی شکل شیشے میں دیکھ لینا ۔۔۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
کیا اپڈیٹ ہے ؟؟؟
وہ اپنی بھاری گھمبھیر آواز میں پوچھ رہا تھا ۔
بھائی ،رپورٹ سچی ہے ،انفارمیشن ساری اکھٹی ہو چکی ہے ،پارٹی سے پےمنٹ بھی اٹھا لی ہے بس اب ہمیں آپ کی
اجازت چاہئے تاکہ ہم پروسیڈ کریں ۔۔
دوسری طرف سے کوئی بس اجازت کا طلبگار تھا ۔
ابھی روک دو ہر پراسیس ،کوئی ایکشن نہیں ہو گا فلحال ۔
وہ صاف انکار کرتا دوسری جانب بات ہوئے کو چونکا گیا تھا ۔
مگر بھائی ،کیوں ؟ہر چیز تیار ہے ۔۔ ۔
وہ لہجے میں حیرت لیے اس سے سوال کر رہا تھا ۔
ہممم…"
وہ گہری سوچ میں ڈوبا ہوا تھا۔
"ابھی وقت نہیں آیا۔ دشمن کو لگنا چاہیے کہ سب کچھ ان کے کنٹرول میں ہے۔ اصل وار وہ ہو گا جس کا انہیں اندازہ بھی
نہ ہو۔"
دوسری طرف سے بھاری سانسوں کی آواز آئی۔
"مگر بھائی، پارٹی ہم سے سوال کرے گی۔ اُن کو جواب کون دے گا؟"
وہ ہنس دیا، مگر ہنسی سرد اور خالی تھی۔
"انہیں وہ جواب ملے گا… جو میں چاہوں گا۔ ابھی ہر قدم روک دو۔"۔
وہ رک کر بولا،
"پارٹی نے ہمیں گمراہ کیا ہے۔"
فون کے اُس پار سے ہڑبڑا کر آواز اٹھی،
"کیا؟ مگر بھائی، یہ کیسے؟"
وہ بھاری سانس لے کر کرسی سے ٹیک لگاتا ہے۔
"جو انفارمیشن ہمارے پاس آئی تھی… سب جعلی تھی۔ پیمنٹ لی گئی، لیکن مقصد ہمیں غلط راستے پر ڈالنا تھا۔ دشمن چاہتا
ہے کہ ہم اصل ہدف سے ہٹ جائیں۔"
دوسری طرف سے سہمے ہوئے لہجے میں سوال آیا،
"پھر… آگے کیا حکم ہے بھائی؟"
وہ دھیمی مگر کاٹ دار آواز میں کہتا ہے،
"خاموش رہو۔ ابھی کسی کو کچھ پتا نہ چلے۔ اصل وار ہم کریں گے… جب وقت ہمارا ہوگا۔ اور اس بار… حساب دوگنا لیا
جائے گا۔"۔
"مگر بھائی، ایک ایک چیز ہم چیک کر چکے ہیں… کیسے ہو سکتا ہے یہ؟"
وہ لمحہ بھر کو ہنس دیا… مگر اس ہنسی میں زہر گھلا ہوا تھا۔
وہ تمہاری نظر میں سہی تھا ،مگر قلندر کی نظر وہاں جاتی ہے جہاں کسی کی نہیں ۔
سانپوں اور کتوں سے میرا واسطہ بہت پرانا ہے ،چہرہ دیکھ کر ہی پہچان لیتا ہوں کاٹنے آیا ہے یا چاٹنے ۔۔۔۔
"اسی لیے تو کہہ رہا ہوں… یہ جال ہے۔ جو چیز زیادہ کلئیر لگے، سمجھ لو سب سے بڑی دھوکہ دہی وہی ہے۔"
دوسری طرف سے خاموشی چھا گئی۔ جیسے کسی کے ہاتھ سے زمین کھسک گئی ہو۔
"بھائی… تو پھر پارٹی کا کیا کریں؟"
وہ سرد لہجے میں بولا،
"پارٹی؟ اب وہ پارٹی نہیں… ہمارا شکار ہے۔ پہلے انہیں لگنے دو کہ ہم اندھے ہیں… پھر ایک وار میں ان کا کھیل ختم۔"
"انہیں لگنے دو کہ انہوں نے ہمیں بیوقوف بنا لیا ہے۔ لیکن… جب قلندر وار کرے گا نا… تو ان کی سانسیں بند ہو جائیں
گی۔"۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
جاری ہے ۔
